یومِ عاشورہ کربلا کا دردصبر اور میرا عزم
یومِ عاشورہ کربلا کا دردصبر اور میرا عزم
تحریر: ایس پیرزادہ
10
محرم الحرام اسلامی سال کا ایک ایسا دن ہے جو تاریخِ انسانیت میں ہمیشہ کے لیے امر ہو چکا ہے یہ صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک صدیوں تک لرزتی چیخ ہے ایک پیاس کی صدا ہے، ایک معصوم بچے کا کانپتا ہوا ہاتھ ہے ایک ماں کی ممتا کا نوحہ ہے اور ایک بھائی کی قربانی کی آخری تصویر ہے
یومِ عاشورہ کو صرف تاریخی واقعہ سمجھنا اس کی توہین ہےکربلا تاریخ نہیں نظریہ ہے امام حسینؑ نے کربلا کے میدان میں محض ظاہری جنگ نہیں لڑی بلکہ ایک ایسی باطنی اور نظریاتی جنگ چھیڑی جو آج بھی ہر ظالم ہر جابر اور ہر ناانصافی کے خلاف تلوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے ان کا یہ پیغام میرے جیسا شخص یزید جیسے شخص کی بیعت نہیں کر سکتا پوری انسانیت کے ضمیر کو جگانے کے لیے کافی ہے
اگرچہ بظاہر امام حسینؑ اور ان کے 72 ساتھی کربلا کے میدان میں شہید ہوئے مگر درحقیقت وہی لوگ زندہ رہ گئے امامؑ نے ہمیں بتا دیا کہ زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں بلکہ باطل کے سامنے ڈٹ جانا سچ کے لیے کھڑا ہونا اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اصل زندگی ہے حسینیت کا فلسفہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ظاہری کامیابی کچھ نہیں اگر مقصد پاک ہو تو شہادت بھی کامیابی بن جاتی ہے
کربلا کی سرزمین پر جو کچھ ہوا وہ کسی داستان کا افسانہ نہیں بلکہ حقیقت کا وہ زخم ہے جو آج بھی امت کے جسم پر تازہ ہے حضرت زینبؑ کا صبر امام سجادؑ کی خاموش مزاحمت حضرت علی اکبرؑ کی جوانمردی حضرت قاسمؑ کی وفاداری اور علی اصغرؑ کی بے زبانی یہ سب دراصل ایک کامل کردار کے اجزائے ترکیبی ہیں جو آج کے نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہیں
ہمیں صرف 61 ہجری کی کربلا پر نہیں رونا بلکہ آج کی کربلاؤں کو بھی پہچاننا ہوگا آج جہاں بھی حق دبایا جاتا ہے جہاں کسی مظلوم کی آواز کو کچلا جاتا ہے جہاں حجاب کو زنجیر سمجھا جاتا ہے جہاں عورت کی عزت نیلام کی جاتی ہے جہاں مزدور کا پسینہ چوری ہوتا ہے جہاں یتیم کا حق ہضم کیا جاتا ہے وہاں ہر جگہ ایک یزید موجود ہے اور جہاں ایک بے خوف سچا باکردار غیرت مند انسان ان کے خلاف کھڑا ہوتا ہے وہ حسین ہے
آج بھی ضمیر کا امتحان جاری ہے کیا ہم سچ کے ساتھ کھڑے ہیں؟ کیا ہم ظالم کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں؟ کیا ہم حسینؑ کی پیروی کر رہے ہیں یا یزید کے دربار کے چاپلوسوں میں شامل ہیں؟ اگر ہم ظلم کے خلاف خاموش ہیں تو ہم بھی یزید کے کیمپ کا حصہ ہیں
یومِ عاشورہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ ہم صرف آنسو بہانے نہ آئیں ہم اپنے اندر کا یزید نکالیں اپنے معاشرے کے حسینوں کا ساتھ دیں ہم اپنی بہنوں بیٹیوں مزدوروں کمزوروں بے زبانوں کے ساتھ کھڑے ہوں یہی حسینؑ کا اصل مشن تھا اور یہی آج ہماری ذمہ داری ہے
پاکستان یونائٹڈ ورکرز فیڈریشن ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ کھڑی رہی ہے ہم کربلا سے یہ سبق لیتے ہیں کہ ہر مزدور ہر یتیم ہر مجبور کی آواز بننا ہمارا فرض ہے۔ حسینؑ نے اپنے وقت کے ظالم کے خلاف قیام کیا ہم آج کے استحصالی نظام کے خلاف حسین کی راہ پر چلتے ہوئے قیام کریں گے
عاشورہ کوئی ماتم کا دن نہیں یہ انقلاب کا دن ہے یہ ہمیں رلاتا ضرور ہے مگر ساتھ ہی جگاتا بھی ہے اگر ہم نے صرف رونا سیکھا اور چلنا نہیں سیکھا تو حسینؑ کی قربانی کا مقصد پورا نہ ہو سکا آئیے آج کے دن ہم عہد کریں کہ ہم ظلم کے سامنے جھکیں گے نہیں اور حسینؑ کی طرح باطل کو للکارنا سیکھیں گے یہ آرٹیکل میں اپنے ارد گرد ان سب مظلوموں کی نظر کرتی ہوں جو ایک یزید کے ظلم تشدد زیادتی کے نظر ہوے اور آواز نھیں اٹھا سکے میں وعدہ کرتی ہوں اس یزید کا مقابلہ بھی کروں گی اور ان سب مظلوموں کی آواز بنوں گی میں حسین کے قافلے سے ہوں جو اللہ پاک کے سوا کسی کے بھی آگے جھکنا پسند نھیں کرتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلام یا حسین








































Visit Today : 88
Visit Yesterday : 369
This Month : 11294
This Year : 59130
Total Visit : 164118
Hits Today : 1100
Total Hits : 811199
Who's Online : 6






















