بٹگرام : جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر حالات اسی طرح رہے تو ایک ہفتے کے نوٹس پر اسلام آباد پر قبضہ کر سکتے ہیں۔ شعائر اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے نہ 2018 کے انتخابات کو تسلیم کیا تھا، نہ ہی 2024 کے دھاندلی زدہ انتخابات کو مانتے ہیں، نہ پچھلی حکومت کو چلنے دیا، نہ ہی اس حکومت کو چلنے دیں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ امریکا ایک بار پھر دوستی کا ہاتھ بڑھا رہا ہے، مگر ہم کیسے فلسطین، لیبیا، شام، اردن میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم بھول جائیں؟ ہم امریکی منافقت کو پہچانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کر کے مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکا، ہماری رائے واضح ہے: “ٹرمپ ہے تو امن نہیں، اور امن ہے تو ٹرمپ نہیں”۔ مولانا نے واضح کیا کہ جب ملک کو ہماری ضرورت پڑی، تو ہم جہاد کا اعلان کریں گے اور ملکی دفاع کے لیے جان کا نذرانہ دینے سے گریز نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیل کے خلاف ایران کے ساتھ کھڑے ہیں، حرمین کی حفاظت کے لیے ہر وقت تیار ہیں اور مسلم امہ کو متحد دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کی امنگوں کی ترجمان نہیں، اور خود کو طاقتور سمجھنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ فیصلے عوام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی انقلابی جدوجہد کے لیے تیار ہے، کارکن میدانِ عمل میں ہوں گے اور کامیابی ہماری مقدر بنے گی کیونکہ اللہ کی مدد ہمارے ساتھ ہے۔ کانفرنس سے مولانا عبدالغفور حیدری اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا، جنہوں نے خیبرپختونخوا حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں کرپشن کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے گئے ہیں۔