ڈسکہ ایک خاندان موت برحق اور ہمارا اجتماعی ضمیر
ڈسکہ ایک خاندان موت برحق اور ہمارا اجتماعی ضمیر
تحریر: ایس پیرزادہ
جب سے سانحہ ڈسکہ کی خبر سامنے آئی ہے دل جیسے کسی وزنی بوجھ تلے دب گیا کئی بار لکھنے کا سوچا مگر ہاتھ کانپ گئے الفاظ ساتھ چھوڑ گئے اس واقعے کی ویڈیوز تصاویر اور آنکھوں دیکھی تفصیلات نے اندر تک جھنجھوڑ دیا وہ آوازیں وہ چیخیں وہ ہاتھ جو مدد کے لیے اٹھے اور فضا میں ہی رہ گئے یہ سب کچھ برداشت کرنا میری طاقت سے باہر تھا یہ ایک عام حادثہ نہیں تھا یہ انسانیت کے کلیجے پر لگنے والا زخم تھا۔ آج ہمت ہوئی ہے تو لکھنے بیٹھی ہوں اور دل سے صرف یہی آواز آتی ہے
إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْهِ رَاجِعُوْن۔
موت برحق ہے جیسے ہماری پیدائش کا وقت طے شدہ ہوتا ہے ویسے ہی ہماری موت بھی لکھی جا چکی ہوتی ہے نہ ایک لمحہ آگے ہو سکتی ہے نہ پیچھے ڈسکہ کا یہ خاندان بھی قدرت کے اسی فیصلے کی پیروی میں اپنے سفر پر نکلا۔ ناران کاغان کی سیر کا ارادہ تھا لیکن تقدیر انہیں سوات لے آئی وہاں ایک پل پر لی جانے والی سیلفی ان کے لیے آخری لمحہ ثابت ہوئی ایک لمحہ خوشی کا ا گلا لمحہ پانی کی بے رحم لہروں کاںاور چند لمحوں بعد صرف خاموشی لاشیں اور بین کرتے لواحقین
یہ خاندان اپنی خوشیوں کی تلاش میں نکلا تھا دل میں اُمید چہروں پر مسکراہٹ اور ہاتھوں میں بچوں کے ہاتھ مگر افسوس وہ دن ان کی تقدیر میں موت کا دن بن چکا تھا کسی کو کیا خبر تھی کہ جس جگہ وہ تصاویر بنا رہے ہیں وہی جگہ ان کی آخری منزل بن جائے گی؟ سیلفی ایک بہانہ تھی مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ ان کی موت انہی پانی کی لہروں میں لکھی جا چکی تھی
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وہ دو گھنٹے تک مدد کے لیے پکارتے رہے لوگ ویڈیوز بناتے رہے مگر ریاست خاموش رہی نہ 1122 پہنچی نہ مقامی ریسکیو ادارےe متحرک ہوئے ان کی چیخیں فضا میں تحلیل ہو گئیں اور وہ سب ایک ایک کر کے زندگی ہار گئے ان کی پکار ریاستی نااہلی کے شور میں دب گئی
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہم نے بارہا سناںپڑھا اور دیکھا ہے کہ کبھی دوستوں کا گروپ تفریح کے لیے نکلا اور واپسی لاشوں کی صورت میں ہوئی کبھی پورے خاندان کو دریا نگل گیا اور ہم ہر بار تھوڑی دیر افسوس کرتے ہیں سوشل میڈیا پر ہمدردی کی پوسٹس کرتے ہیں، اور پھر اگلے سانحے کا انتظار کرتے ہیں۔ کیا یہی ہماری اجتماعی حساسیت ہے؟
مجھے اس واقعے کے بعد سیاست دانوں کے بیانات اور پریس کانفرنسز نے مزید دکھ دیا ایک دوسرے پر الزامات پوائنٹ اسکورنگ اور صرف کیمروں کے سامنے آنسو بہانا یہ سب ایک دردناک تماشہ بن چکا ہے کیا ہمیں یہ احساس نہیں رہا کہ جنہیں ہم کھو چکے ہیں وہ ہماری طرح انسان تھے؟ اگر وہ ہمارے بچے ہوتے تو؟ کیا تب بھی ہم خاموش رہتے؟
میں اس وقت ہر اس ماں کے درد کو محسوس کر رہی ہوں جس کا بچہ اس حادثے میں گیا ہر باپ کی آہیں میرے دل کو زخمی کر رہی ہیں ہر لاش ہر جنازہ ہر بین ایک سوال بن کر مجھے گھیرے ہوئے ہے۔ کیا ہم انسان ہیں؟ کیا ہمارا دل ہماری ریاست ہمارے ادارے اب صرف حادثوں کے بعد حرکت میں آتے ہیں؟
ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ اگر موت یقینی ہے تو ہماری ذمہ داریاں بھی یقینی ہونی چاہییں ریاستی اداروں کو اپنی نیند سے جاگنا ہوگا تفریحی مقامات پر پیشگی وارننگ سسٹم تربیت یافتہ عملہ اور فوری رسپانس میکانزم لازم ہونا چاہیے
ہمیں اس سانحے کو ایک موقع بنانا ہوگا جہاں ہم صرف آنسو نہ بہائیں بلکہ تبدیلی کی بنیاد رکھیں آئندہ کسی ماں کو اپنا بچہ یوں کھونا نہ پڑے کسی باپ کو اپنی بیٹی کی لاش نہ اٹھانی پڑے اور کوئی خاندان خوشیوں کے سفر پر موت کی وادی میں نہ اترے
اللہ تعالیٰ اس خاندان کے تمام مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبرِ جمیل دے۔ آمین








































Visit Today : 141
Visit Yesterday : 369
This Month : 11347
This Year : 59183
Total Visit : 164171
Hits Today : 1560
Total Hits : 811658
Who's Online : 11






















