ملتان: موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ایف اے او اور پنجاب حکومت کی زرعی ورکشاپ
ملتان (صفدربخاری سے)موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور دیرپا زراعت کی طرف ایک اہم قدم کے طور پر، اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) اور حکومت پنجاب نے مل کر ”اینڈ آف سیزن پروگریس ریویو اور رزلٹ شیئرنگ ورکشاپ” کا انعقاد ملتان میں کیا۔ اس ورکشاپ میں ایف اے او کے سینئر عہدیداروں، محکمہ زراعت توسیع، آن فارم واٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ، تطبیقی تحقیقی اداروں، جامعات اور جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے کسانوں نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد گرین کلائمیٹ فنڈ (جی سی ایف) منصوبے کے تحت قائم کردہ ”موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت (CRA)” کے نمائشی کھیتوں کا جائزہ لینا اور نتائج کا تبادلہ کرنا تھا۔ یہ نمائشی کھیت ملتان، ڈیرہ غازی خان، مظفرگڑھ، خانیوال اور لودھراں میں قائم کیے گئے تھے، جہاں جدید زرعی طریقے متعارف کروائے گئے جیسے کہ چاول کی فصل میں پانی کے وقفے سے آبپاشی,گندم میں زیرو اور کم ہل چلانا, پٹڑیوں پرکپاس کی فصل کی کاشت، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ بیج کی اقسام اور کیڑوں کے تدارک شامل تھے۔ محترمہ ایمیلڈا بریجینا، سربراہ ایف اے او پنجاب نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ”یہ ورکشاپ ہماری ماحول دوست زرعی نظام کی طرف پیش رفت کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ مختلف محکموں کے درمیان ہم آہنگی اور کسانوں اور فیلڈ ٹیموں کا جذبہ واقعی قابلِ ستائش ہے، جو ان تجرباتی طریقوں کو عملی طور پر اپنانے میں مدد دے رہے ہیں۔”پاکستان کا زرعی شعبہ جو ملک کی جی ڈی پی کا %23.5 اور روزگار کا %37 فراہم کرتا ہے، موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔ سال 2024-25 میں اہم فصلوں کی پیداوار میں %13.49 کمی دیکھی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں فوری طور پر ایسی زرعی پالیسیوں کی طرف جانا ہوگا جو موسمیاتی اثرات کو برداشت کر سکیں اور پانی کی بچت ممکن بنائیں۔ اس کے برعکس ناموافق حالات کے باوجود، لائیوسٹاک سیکٹر نے %4.72 کی مثبت ترقی دکھائی۔اس موقع پر آن فارم واٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے ن ڈاکٹر مظہر اقبال ے موثرآبپاشی کے طریقوں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:پانی کی قلت اب قومی مسئلہ بنتی جا رہی ہے، اس لیے زراعت میں پانی کا مؤثر استعمال ہنگامی بنیاد پر ضروری ہو گیا ہے۔ ایف اے او کے اشتراک سے کیے گئے عملی مظاہرے کسانوں کو ایسی تکنیک سکھا رہے ہیں جو کم پانی میں بہتر پیداوار ممکن بناتے ہیں۔ایگریکلچر ایکسٹینشن ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے شہزاد صابرے فیلڈ ٹیموں کے اہم کردار پر زور دیا: ہماری توسیعی ٹیموں نے تحقیق کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور کسانوں کو جدید طریقے، نئے بیج، اور موسمیاتی موافق زراعت سکھانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان کی محنت ہی ہماری دیہی ترقی کی بنیاد ہے۔ڈاکٹر محمد طارق، ڈائریکٹر ہیڈکوارٹر ایڈاپٹیو ریسرچ، نے کہاماحول دوست زراعت پلاٹس کی کامیابی کی بنیاد سائنسی طریقوں اور مخصوص علاقوں میں کیے گئے تجربات پر ہے ہمارے محققین کی ٹیم ایف اے او اور کسانوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ حل نہ صرف جدید ہوں بلکہ موسمی تبدیلیوں کے مطابق پائیدار، عملی اور منافع بخش بھی ہوں۔ اس طرح کی شراکتی تحقیق مستقبل میں زرعی نظام کو مضبوط اور ماحول دوست بنانے کے لیے بہت اہم ہے ورکشاپ کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ محکموں کے درمیان تعاون جاری رکھا جائے، کسانوں کے لیے اداروں کی طرف سے معاونت میں اضافہ کیا جائے، اور مستقبل کے اقدامات کو قومی پالیسیوں اور بین الاقوامی موسمیاتی معاہدوں سے ہم آہنگ بنایا جائے۔








































Visit Today : 141
Visit Yesterday : 369
This Month : 11347
This Year : 59183
Total Visit : 164171
Hits Today : 1558
Total Hits : 811656
Who's Online : 11






















