منشیات کے عالمی دن پر شعور آگاہی واک، ملتان میں اہم سماجی و سیاسی شخصیات کی شرکت
ملتان (صفدربخاری سے) آسودگی کی تلاش‘ بوریت سے نجات اور فیشن زدہ نظر آنے کی چاہ میں سگریٹ کی جانب بڑھایا جانے والا قدم اتنی آسانی سے پیچھے نہیں ہٹایا جا سکتا۔ سگریٹ نوشی کو منشیات کی جانب پہلا قدم قرار دیا جاتا ہے کیونکہ معاملہ محض اچھائی اور برائی کے درمیان باریک سی لکیر کا ہی تو ہے اور جب وہ تفریق مٹ جاتی ہے تو پھر کوئی برائی‘ برائی نہیں لگتی۔ منشیات کی علت معاشرے میں عمر کی تفریق کے بغیر کچھ اس طرح سے عام ہو چکی ہے کہ اسے ایک بین الاقوامی مسئلہ کہا جا رہا ہے‘ ایک ایسا مسئلہ جو ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اور اسی ضمن میں انسداد منشیات کے حوالے سےشعور و آگاہی کے مقصد کے تحت دنیا بھر میں ہر سال 26جون کو منشیات کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ تاکہ منشیات کی وبا کے نقصانات اور ان سے بچاو کی تدابیر کی جاسکیں اور معاشرے کو منشیات سے پاک معاشرہ بنانے کیلیے ہم۔سب کو عملی کاوشیں کرنی ہونگی ان خیالات کا اظہار شعور ترقیاتی تنظیم و انسداد منشیات سول سو سائٹی فورم ساوتھ پنجاب کے زیر اہتمام اور اینٹی نارکوٹکس فورس پنجاب و ملتان کی زیر نگرانی تدارک منشیات کے عالمی دن کی مناسبت سے ہفت روزہ تقریبات کے سلسلے میں عوامی آگاہی واک سے خطاب کرتے ہوئے معروف سماجی و سیاسی رہنما بیرسٹر ملک محمد عثمان ڈوگر اور سوشل ریفارمر شاہد محمود انصاری نے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کا زہر ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے، کتنے ہی خاندان ایسے ہیں جو نشے میں مبتلا اپنے بچوں کے مستقبل سے نااُمید ہو چکے ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں 15 سے 64 سال کی عمر کے 35 کروڑ لوگ کسی نہ کسی نشے میں مبتلا ہیں۔ دنیا کی تقریباً سات ارب آبادی میں سے ساڑھے چار ارب افراد کی عمریں 15 سے 64 سال کے درمیان ہیں جن میں نشے کے عادی افراد کی شرح سات فیصد ہے۔ پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد افراد نشے میں مبتلا ہیں۔ صوبائی شرح کے حساب سے پنجاب ا اور دیگر صوبوں کی بہت بڑی تعداد افراد نشے کے عادی ہے۔ صرف ہمارے شہر ملتان میں ہی کئی ہزار لوگ نشے میں مبتلا ہیں جبکہ پاکستان میں ہرسال نشہ کرنے والوں کی تعداد میں لاکھوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ منشیات فر وشی پر پابندی اور ا س کے خلاف کیے جانے والے اقدامات اپنی جگہ لیکن والدین کا اپنے بچو ں پر نظر رکھنے کا عمل انتہائی ضروری ہے۔ہمیں چاہیے کہ بچو ں کے ساتھ ان کے دو ستوں پر نظر رکھیں اور انہیں اچھی صحبت کے فو ائد بتائیں۔ جہاں اُن کے قدمو ں میں ہلکی سی بھی لرزش نظر آئے اُن پر قابو پانے کی کوشش کریں بصورت دیگر زندگی کا یہ اہم ترین سرمایہ ضائع ہو سکتا ہے۔ مقررین نے مزید کہا کہ اے این ایف منشیات کی رسد روکنے کیلیے جو اقدامات اٹھا رہا ہے وہ قابل ستائش ہے دیگر اداروں کو بھی عملی اقدامات کے فروغ کیلیے اپنی آپریشنل کاروائیوں کو تیز کرنا چاہیے تاکہ ہم۔ایک بہتر ڈرگ فری سو سائٹی تشکیل دے سکیں اس موقع پر شرکا نے عوامی آگاہی واک میں شرکت کی۔ شرکاء میں زمان اکبر گل نسرین ۔ عمرانہ سید ۔ طاہرہ نسیم اورنگزیب خان بلوچ ۔ شاہدہ پیرزادہ شھگی۔ ڈاکٹر عرفان احمد پراچہ ۔ضیا صدیقی ۔مس فرحت چغتای۔ ۔ چوہدری منصور احمد۔ اقبال بلوچ۔ ڈاکٹر عامر بشیر ۔ ڈاکٹر قیصر اقبال ۔ شاہد اقبال۔ عادل محمود سمیت دیگر شریک تھے۔








































Visit Today : 170
Visit Yesterday : 369
This Month : 11376
This Year : 59212
Total Visit : 164200
Hits Today : 2433
Total Hits : 812532
Who's Online : 8






















