ا سلام آ باد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا ۔ اجلاس میں  چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف ،سروسز چیفس اور وفاقی وزراء  نے شرکت کی ۔ اجلاس میں  ایران، اسرائیل جنگ اور ایرانی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیاقومی سلامتی کمیٹی کے اس اہم اجلاس میں ایران پر حملوں کے خطے پر اثرات پر بھی غور کیا گیا،آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورہ امریکہ  پر شرکاء کو اعتماد میں لیا  گیا۔اجلاس میں پاکستان کی کامیاب سفارتکاری کے معاملات پر بریفنگ دی گئی  اوربھارت کی آبی جارحیت سے متعلق دھمکیوں پر  اظہار تشویش کیا گیا اور  بھارت کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے عزم کا اعادہ  کیا گیا ۔  قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا جس میں اسرائیل کے جارحانہ اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ  یہ فوجی حملے اُس وقت کیے گئے جب ایران اور امریکہ کے درمیان ایک تعمیری مذاکراتی عمل جاری تھا۔ ان غیر ذمہ دارانہ کارروائیوں نے خطے میں کشیدگی میں اضافہ کیا ہے، جو ایک بڑے تنازعے کو ہوا دے سکتی ہیں اور بات چیت و سفارتکاری کے امکانات کو کمزور کر رہی ہیں۔   قومی سلامتی کمیٹی نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ایران کے اپنے دفاع کے حق کو تسلیم کیا ، ایران کے عوام اور حکومت سے معصوم جانوں کے ضیاع پر اظہارِ تعزیت کیا  اور  زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔ پاکستان کے واضح مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے، کمیٹی نے 22 جون کو فردو، نطنز اور اصفہان میں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد ممکنہ مزید بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا،جو کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی قراردادوں، متعلقہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہیں۔ کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان متعلقہ فریقین سے قریبی رابطے میں ہے اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی کوششوں اور اقدامات کو جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔کمیٹی نے تمام متعلقہ فریقین سے مطالبہ کیا کہ تنازعے کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جائے۔ کمیٹی نے بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کے قوانین کی پاسداری پر بھی زور دیا۔