حقوق العباد اور ہماری بےحسی

تحریر: ایس پیرزادہ

چند دن پہلے سوشل میڈیا پر دو ایسی المناک خبریں دیکھنے کو ملیں جنہوں نے دل دہلا کر رکھ دیا ایک خبر ملتان کے ایک نوجوان رئیل اسٹیٹ ایجنٹ وقاص صاحب کی خودکشی کی تھی جنہوں نے ایک دل گرفتہ پیغام کے ساتھ اپنی زندگی کا چراغ گل کر دیا انہوں نے فیملی گروپ میں اپنا آخری پیغام بھیجا کہ میرا بے جان جسم میرے آفس سے لے جانا دوسری خبر معروف پاکستانی اداکارہ عائشہ خان کی تھی جن کی لاش ایک ہفتے تک ان کے کمرے میں پڑی رہی اور کسی کو خبر نہ ہوئی
یہ دونوں واقعات صرف ذاتی سانحے نہیں تھے یہ ہمارے معاشرے کی مجموعی بے حسی، ٹوٹے رشتوں اور کمزور ہوتے انسانی تعلقات کا نوحہ ہیں
ہمیں یاد ہے جب بچپن میں والدین سکھایا کرتے تھے کہ ہمسایہ بھوکا ہو اور تم پیٹ بھر کر سو جاؤ، تو یہ ظلم ہے کوئی بیمار ہو تو عیادت کوئی غم میں ہو تو دلاسہ کوئی پریشان ہو تو دعا اور کوئی خاموش ہو تو دل سے حال پوچھنا فرض سمجھا جاتا تھا تب انسان انسان کے ساتھ جڑا ہوتا تھا مگر آج؟ آج سب اپنے اپنے دائرے میں قید، اپنی اپنی اسکرین میں گم صرف دیکھنے اور شیئر کرنے تک محدود ہو گئے ہیں
وقاص صاحب کی خودکشی اور عائشہ خان کی تنہائی میں موت ہم سب کے لیے ایک آئینہ ہے یہ ہمیں جھنجھوڑ رہی ہے کہ کیا ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ کوئی جیتا جاگتا انسان مر جائے اور ہمیں خبر ہی نہ ہو؟ ہم اس قدر خود غرض ہو گئے ہیں کہ صرف وہی رشتے زندہ رکھتے ہیں جن سے مفاد جڑا ہو؟ ہم یہ کیوں بھول گئے کہ حقوق العباد اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ فرض ہیں جن کی معافی صرف بندہ ہی دے سکتا ہے؟ اور اگر وہ بندہ دنیا سے رخصت ہو جائے تو وہ حق قیامت تک ہمارے نامہ اعمال میں لکھا رہتا ہے
عائشہ خان کا ہفتوں اکیلے مر جانا ایک پیغام ہے کہ شہرت دولت اور کامیابی بھی کسی انسان کے دل کی تنہائی کو ختم نہیں کر سکتیں اگر اس کے اردگرد لوگ بے خبر ہوں اور وقاص کی خودکشی اس بات کی گواہی ہے کہ جو مسکراتا نظر آتا ہے وہ اندر سے ٹوٹا ہوا ہو سکتا ہے
ہمیں اب رک کر سوچنے کی ضرورت ہے ہمیں اپنی روایات اپنی تعلیمات اور اپنے دلوں کو پھر سے زندہ کرنے کی ضرورت ہے ہمیں ایک دوسرے کے دلوں کے دروازے کھٹکھٹانے ہوں گے کسی کی خاموشی کو سمجھنے کسی کی آنکھوں میں چھپی چیخوں کو سننے اور کسی کے دل کی ویرانی کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے
معاشرہ صرف سڑکوں عمارتوں یا نظاموں سے نہیں بنتا وہ انسانوں سے بنتا ہے اور جب انسان انسان کے حال سے غافل ہو جائے تو سب کچھ کھو جاتا ہے
آئیے ہم پھر سے حقوق العباد کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں ہمسایہ دوست عزیز کولیگ یا ایک عام شخص اگر وہ خاموش ہے تو اس کی خاموشی میں جھانکیں کیونکہ بعض اوقات خاموشی چیخوں سے زیادہ گونجتی ہے
ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ پھر کسی وقاص کی میت صرف پیغام کے ذریعے ہم تک پہنچے اور کسی عائشہ کی خاموشی پھر ہم سے سوال کرے کہ ہم کہاں تھے؟