ملتان : پنجاب ٹیچرز یونین کے رہنماؤں نے حالیہ بجٹ میں پڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی بدحالی کے تناسب سے پنجاب میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں مناسب اضافہ نہ کیے جانے اور وفاق کے مطابق تیس فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس نہ دئیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اکیگا پنجاب کے زیر اہتمام 25 جون کو پنجاب اسمبلی لاہور کے سامنے احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کر دیا ہے ان خیالات کا اظہار پنجاب ٹیچرز یونین کے سینیئر نائب صدر پنجاب چوہدری مسعود احمد گجر، ضلعی نائب صدر پی ٹی یو ملتان محمود الحسن ،چیئرمین چوہدری خالد سندھو، عبدالخالق انصاری، عبدالرزاق،چوہدری زکریا گجر نے منعقدہ اجلاس میں کیا اساتذہ رہنماؤں رانا محمد انوار ، رانا لیاقت علی ،چوہدری مسعود احمد گجر نے مزید کہا کہ وفاق اور پنجاب میں ایک ہی خاندان کی حکومت ہے لیکن افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ حکومتی اشرافیہ نے اپنی تنخواہوں میں تو خود ہی چار سو فیصد اضافہ کر لیا ہے ۔ نیز ملک کے دیگر تین صوبوں میں 30 فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس دیا گیا لیکن پنجاب کے سرکاری ملازمین کو نہ دے کر سوتیلی ماں سے بھی بدتر سلوک کیا گیا جس کے جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے اساتذہ سمیت دیگر سرکاری اداروں کے چھوٹے سرکاری ملازمین بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے شدید مشکلات سے دوچار ہیں جن کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا اور بچوں کو پڑھانا انتہائی مشکل ہو گیا ہے وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف خدمت کے جذبہ کے گن گاتی ہیں لیکن ان کے اپنے ہی صوبے میں چھوٹے سرکاری ملازمین انتہائی معاشی بدحالی سے دوچار ہیں وہ اس سلسلے میں سنجیدگی سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 30 فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس کے اجرا کا اعلان کریں تاکہ غریب محنت کش چھوٹے ملازمین شدید گرمی میں اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلنے پر مجبور نہ ہوں۔