ملتان(صفدربخاری سے) ملی یکجہتی کونسل جنوبی پنجاب کی صدر حافظ محمد اسلم جنرل سیکرٹری مولانا محمد ایوب مغل کی سربراہی میں وفد نے خانہ فرنگ ایران ملتان کے انچارج مس زاہدہ بخاری سے ایران پر ہونے والے اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے آرمی سائنسدانوں اورعوام کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور اسرائیل کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایران میں کھلی دہشت گردی قرار دیا انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے مسائل اور مشکلات کا سبب بننے والے اسرائیل نے غزہ کے بعد ایران پر حملہ آور ہو کراپنی شیطانیت کا سبوت د یا ہے امریکہ کی سربراہی میں ایران پر اسرائیل کا حملہ خطے کے امن کو برباد کرنے کے مترادف ہے ایران پر اسرائیلی حملے سے خطے میں قتل و غارت کا نیا باب کھل گیاہے مسلم دنیا سمیت پوری دنیا اس حملے کی شدید مزمت کر رہی ہے اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ حملے نے مشرق وسطیٰ کو ایک نئے بحران میں دھکیل دیا ہے۔ اس حملے میں کئی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد تنصیبات کو نقصان پہنچا، جس پر دنیا بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر حملہ دہشتگردی کا کھلا مظاہرہ ہے عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل ہے۔ یہ حملہ نہ صرف ایران کی خودمختاری کے خلاف ہے بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں اس حملے کے خلاف شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ کئی مسلم رہنماؤں اور دانشوروں نے اس واقعے کی اصل ذمہ داری امریکہ پر عائد کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کی اندھی اسرائیل نوازی اور مسلسل فوجی و سیاسی پشت پناہی ہی وہ بنیادی عنصر ہے جو آج مشرق وسطیٰ کو بدامنی اور قتل و غارت کے دہانے پر لے آیا ہے انہوں نے کہا کہ عالمِ اسلام میں ایک عام تاثر یہ ہے کہ مسلمانوں کو درپیش بیشتر مسائل خواہ وہ فلسطین ہو، کشمیر ہو یا ایران پر حملہ — ان سب کے پیچھے امریکی پالیسیوں کا ہاتھ ہے۔ امریکہ کی خارجہ پالیسی، خاص طور پر اسرائیل کے معاملے میں، نہ صرف علاقائی امن کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر مسلم دنیا کو کمزور کر رہی ہے۔اقوامِ متحدہ اور عالمی اداروں کی خاموشی سے بھی کئی سوال جنم لے رہے ہیں اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے اب تک اس حملے پر کوئی مؤثر قدم اٹھانے میں ناکام رہے ہیں، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی شدید تنقید کی ہے۔موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ باہمی اتحاد، مشترکہ موقف اور خودمختار خارجہ پالیسی ہی وہ راستے ہیں جن سے وہ اپنے حقوق کا دفاع کر سکتے ہیں۔ اگر اب بھی مسلمان ممالک نے خاموشی اختیار کیے رکھی، تو کل کسی اور ملک کی باری ہو سکتی ہے اس موقع پر وفد میں بشارت عباس،قریشی محمد سلیم صدیقی،علامہ خالد محمود فاروقی،علامہ طارق ہاشمی،قاری مشتاق فاروقی، شیخ الحدیث مرکز رحمت اللعالمین حکیم عمر فاروق کوٹ کبیری،ودیگر شریک تھے