وفاقی بجٹ میں ’’امداد‘‘ کے نام پر اربوں روپے مختص کرنے کی بجائے بھاری صنعتی ٹیکسوں میں کمی کی جائے: چوہدری وحید ارشد
ملتان (صفدربخاری سے) پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین چوہدری وحید ارشد نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں ’’امداد‘‘ کے نام پر اربوں روپے مختص کرنے کی بجائے صنعتوں کی بحالی اور بھاری صنعتی ٹیکسوں میں کمی کی جائے اس مطالبے پر عمل درآمد سے ناصرف کاروبار میں بہتری آئے گی بلکہ صنعتوں کی بقا ممکن ہونے سے لوگوں کے لیے روزگار کے دروازے کھلے رہیں گے۔ چوہدری وحید ارشد نے مزید کہا کہ کہ وفاقی بجٹ 26-2025 میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 716ارب روپے سے زائد کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے جبکہ صوبائی حکومتیں بھی اپنے اپنے بجٹس میں سالانہ بنیادوں پر اس مد میں اربوں روپے کی رقم مختص کرتی ہیں۔بجٹ سازوں کی منطق کے باعث پچھلے کئی سالوں سے ملک میں کاروبار کی بجائے خیرات کو بڑھاوا مل رہا ہے لیکن اسکے برعکس مالیاتی بحران اور غیرموافق پالیسیوں کے سبب 800جننگ فیکٹریاں اور 300 کے قریب ٹیکسٹائل ملوں سمیت سینکڑوں صنعتی یونٹس مکمل طور پر جبکہ کئی سو صنعتیں جزوی طور پر غیر فعال ہوچکی ہیں اور انکی تعداد میں ہر سال مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے جس سے ملک اقتصادی افق پر کمزور ہورہا ہے۔انھوں نے کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کو تجویز دی کہ وہ مختلف خیراتی اسکیموں کے نام پر سالانہ اربوں روپے کا فنڈز مختص کرنے کے بجائے یہ رقم صنعتوں کی بحالی وترقی پر خرچ کرنے کی حکمت اختیار کریں، خصوصا کاٹن جننگ سیکٹر پر عائد 70 فیصد سے زائد سیلز ٹیکس میں نمایاں کمی کے ساتھ معاشی بحران میں مبتلا صنعتوں کو قرض اور مارک اپ کی ادائیگی میں سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ یہ یونٹس دوبارہ بحال ہوسکیں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا توکاٹن انڈسٹری کے تاریخ کے بدترین معاشی بحران میں مبتلا ہونے کے خدشات ہیں۔








































Visit Today : 172
Visit Yesterday : 369
This Month : 11378
This Year : 59214
Total Visit : 164202
Hits Today : 2567
Total Hits : 812665
Who's Online : 8






















