ملتان (بیورو رپورٹ) نشتر ہسپتال ملتان میں ورلڈ الرجی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ماہر معالج پروفیسر ڈاکٹر عامر ندیم نے کہا ہے کہ ملک میں الرجی کی مختلف اقسام ہیں جن میں مٹی،دھواں فضائی آلودگی سے بھی خطرناک الرجی کا اٹیک ہوتا ہے جبکہ اکثر گھروں میں لوگوں نے کارپٹ بچھائے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے خواتین اور بچوں میں سب سے زیادہ الرجی پھیل رہی ہے الرجی سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ورلڈ الرجی ویک کے موقع پر نشتر ہسپتال میں منعقدہ ویرک فارماسوٹیکل کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کے دوران کیا جس میں اسسٹنٹ پروفیسرز ڈاکٹر عمران شریف انصاری،ڈاکٹر عالیہ اختر،ڈاکٹر محمد اسلام نے بھی خطاب کیا مقررین نے کہا کہ شہریوں میں سانس کی الرجی کی وباء سب سے زیادہ پھیل رہی ہے جس پر ہمیں احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیے خواتین میں پھیلنے والی الرجی کا سبب زیادہ تر اس وقت بنتا ہے جب خواتین کارپٹ شدہ کمروں میں مشینوں سے صفائی کرتی ہیں اور اس دوران خطرناک جراثیم جو نظر نہیں آتی اڑ کر سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں پہنچ جاتی ہے جس سے سانس کی الرجی کا سبب بنتا ہے اس لیے خواتین کو دوران کارپٹ صفائی کے دوران حفاظتی تدابیر کے ساتھ صفائی کرنی چاہیے شہریوں میں الرجی سے بچاؤ کے سلسلے میں آ گاہی مہم جاری ہے ہمیں الرجی کی روک تھام کے لیے باقاعدہ طور پر سیمینار منعقد کرنے چاہیے اور اس خطرناک بیماری پر قابو پانے کے لیے بالخصوص آگاہی مہم کی اشد ضرورت ہے جس پر عوامی اور سماجی حلقوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ تقریب میں ویرک فارما کی طرف سے بن یامین، محمد امتیاز بشیر، محمد ارسلان عاشق نے شرکت کی۔