وفاقی بجٹ بیلنس بجٹ ہے ، اس میں کچھ بہتراقدامات کئے گئے: میاں راشد اقبال
ملتان (صفدربخاری سے) چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایم سی سی آئی) کے سابق صدر میاں راشد اقبال نے فنانس بل 2025-26 میں ان لینڈ ریونیو افسران کو کمپنیوں کے ڈائریکٹرز، چیف ایگزیکٹو آفیسرز، چیف فنانشل آفیسرز اور دیگر کارپوریٹ عہدیداروں کو گرفتار کرنے کے مجوزہ اختیارات دینے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس اقدام کو پاکستان میں کاروبار کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اختیارات صرف ہراسانی، بلیک میلنگ، رشوت اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا دروازہ کھولیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو شدید متاثر کرے گا بلکہ کاروباری فضا کو مزید غیر یقینی اور غیر محفوظ بنا دے گا۔انہوں نے کہا کہ فنانس بل کی ان تجاویز کو فی الفور واپس لیا جائے اور سولر انرجی پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس کو بھی واپس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ گرین انرجی کی حوصلہ شکنی کے مترادف ہے۔ میاں راشد اقبال نے بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ بیلنس بجٹ ہے۔ اس میں کچھ بہتراقدامات کئے گئے جبکہ بزنس اور انڈسٹری کیلئے بجٹ بہت سخت ہے ۔ بزنس کمیونٹی کو خاطر خواہ کوئی امید نظر نہیں آتی کیونکہ اگر بجلی ‘گیس کی قیمت کم ہو’ سیلز ٹیکس’ انکم ٹیکس کم ہو تو انڈسٹری چل سکے گی اور ہم اس کو بزنس فرینڈلی بجٹ کہہ سکیں گے۔ 2025میں نئی ترامیم آئی ہیں جس کے بعد پاکستان میں کوئی چیز بزنس فرینڈلی نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ امسال ریونیو کا ٹارگٹ 12ہزار 900ارب روپے رکھا گیا لیکن اکٹھا 10ہزار ارب روپے ہوااس بجٹ میں ٹارگٹ 14ہزار ارب روپے رکھا گیا ہے جب ایف بی آر سے 12ہزار ارب روپے اکٹھا نہیں ہوا تو 14ہزا ر ارب روپے کیسے اکٹھے کریں گے۔ حکومت ٹیکس نیٹ میں اضافہ نہیں کررہی بلکہ جو موجودہ ٹیکس پیئرز پر ہی مزید ٹیکس لگائے جائیں گے۔ میاں راشد اقبال کا کہنا تھا کہ بجٹ میں کچھ چیزیں اچھی بھی ہیں ۔ جیسا کہ تنخواہوں میں اضافہ’ پنشن میں اضافہ اور تنخواہ داروں پر ٹیکسوں میں کمی۔ اس کے علاوہ تھرکول کو مین ریلوے لائن سے جوڑنے کیلئے اس بار پہلی بار فنڈز رکھے گئے ہیں جوکہ خوش آئند اقدام ہے کیونکہ اس کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی اگر تھرکول مارکیٹ میں آجائے تو بجلی کے بڑے استعمال کنندگان کو بہت فائدہ ہوگا کیونکہ اس کو استعمال کرکے بجلی خود پیدا کرسکتے ہیں جس کی وجہ سے بجلی کی قیمت کم ہوگی۔ کیونکہ پاکستان میں اس وقت انڈسٹری کو 14سینٹ پر بجلی مل رہی ہے جبکہ ہمارے ہمسایہ ممالک میں 8سینٹ پر بجلی مل رہی ہے۔ جس کی وجہ سے ہماری انڈسٹری دیگر ممالک کی انڈسٹری سے مقابلہ نہیں کرپارہی۔ سابق صدر ایوان صنعت وتجارت نے مزید کہا کہ شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میںلانا چاہئے۔ انڈسٹری کو مراعات ملیں گی تو ہمارے ہاں اشیا بنیں گی اور ہمیں امپورٹ کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ امپورٹ کم کرکے ایکسپورٹ بڑھانا ہوگی اور یہ تب ہی ممکن ہے جب انڈسٹری کو مراعات دی جائیں۔








































Visit Today : 191
Visit Yesterday : 369
This Month : 11397
This Year : 59233
Total Visit : 164221
Hits Today : 4559
Total Hits : 814657
Who's Online : 5






















