ملتان: ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ملتان کے رکشہ لوڈر ورکرز نے عید بونس کی رقم میں کٹوتی اور متعدد ملازمین کو نوکری سے نکالے جانے کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ احتجاجی مظاہرے کی قیادت محنت کش یونین کے جنرل سیکرٹری ملک حماد ڈوگر نے کی۔ مظاہرین نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، کمشنر ملتان اور ڈپٹی کمشنر ملتان سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے، مظاہرین کے مطابق یہ رکشہ لوڈر ورکرز چار ماہ قبل ٹھیکے داری نظام کے تحت بھرتی کیے گئے تھے، تاہم اب ان کے ساتھ بدترین سلوک کیا جا رہا ہے ، حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 10 ہزار روپے عید بونس کی بجائے ٹھیکے داروں نے صرف 3 ہزار روپے فی ورکر دئیے، جب اس زیادتی پر احتجاج کیا گیا تو درجنوں رکشہ لوڈر ملازمین کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔مظاہرین کے مطابق کمپنی کے ٹھیکے دار شہزاد جٹ اور کاشف بٹ مبینہ طور پر سرکاری نظام کا غلط استعمال کرتے ہوئے نہ صرف ورکرز کا مالی استحصال کر رہے ہیں بلکہ ورکرز کے اے ٹی ایم کارڈز بھی اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں ، ٹھیکے دار حکومت سے فی ورکر 37 ہزار روپے وصول کرتے ہیں ، لیکن ملازمین کو صرف 25 ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔ باقی رقم ٹھیکے دار خود ہضم کر رہے ہیں۔ شکایات کے باوجود تاحال کسی بھی متعلقہ ادارے نے اس صورتحال کا نوٹس نہیں لیا۔مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر انہیں مکمل بونس اور ملازمتوں پر بحالی نہ ملی تو کمشنر آفس اور ڈی سی آفس کے باہر بھرپور احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سیکرٹری محنت کش یونین، ملک حماد ڈوگر نے کہا کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی میں ٹھیکے داری نظام مکمل طور پر فلاپ ہوچکا ہے۔ یہ نظام ورکرز کے استحصال کا ذریعہ بن چکا ہے۔ ورکرز ک ±ش پالیسیاں کسی صورت قبول نہیں کی جائیں گی۔ یونین اپنے ساتھیوں کے حقوق کے لیے ہر فورم پر بھرپور جدوجہد کرے گی۔ اگر ان کی محنت پسینہ رائیگاں گیا ،تو ہم اپنا خون بہانے سے بھی گریز نہیں کریں گے، مظاہرے میں ڈرائیور غلام سجاد، محمد رمضان، سعید، محمد اصغر، حماد احمد، رمضان، اللہ دتّا، محمد عاطف نواز، محمد گل خان، عبدالرحمن، محمد عاطف، منیر احمد، احمد عمر، محمد سیرت، شاہزیب اور دیگر نے بھرپور شرکت کی۔