پلاسٹک کی آلودگی سے جانداروں کی بہت سی انواع کے علاوہ انسانی زندگی کو بھی خطرہ لاحق ہے: پروفیسر ڈاکٹر طارق محمود انصاری
ملتان : سابق وائس چانسلر بہاو ¿الدین زکریا یونیورسٹی ملتان پروفیسر ڈاکٹر طارق محمود انصاری نے کہا ہے کہ پلاسٹک کی آلودگی سے جانداروں کی بہت سی انواع کے علاوہ انسانی زندگی کو بھی خطرہ لاحق ہے دنیا میں ہر سال 400 ملین ٹن پلاسٹک پیدا ہوتا ہے جس کی نصف مقدار صرف ایک مرتبہ استعمال ہوتی ہے اور صرف 10 فیصد کو دوبارہ کام میں لایا جاتا ہے اقوام متحدہ کے مطابق، ہر سال پلاسٹک کا 19 تا 23 ملین ٹن کچرا آبی ماحولیاتی نظام میں شامل ہو جاتا ہے۔ اگر اسے روکنے کے لیے ہنگامی بنیاد پر اقدامات نہ کیے گئے تو 2040 تک اس کچرے کی مقدار میں 50 فیصد اضافہ ہو جائے گا پلاسٹک کرہ ارض کے ہر کونے کو آلودہ کر رہا ہے اس سے ماحولیاتی نظام، جنگلی حیات اور انسانی صحت کو خطرات لاحق ہیں۔ پلاسٹک کے انتہائی چھوٹے ذرات خوراک، پانی اور ہوا میں بھی پائے جاتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ہر فرد ہر سال پلاسٹک کے 50 ہزار ذرات نگل لیتا ہے جبکہ سانس کے ذریعے جسم میں جانے والے ذرات اس کے علاوہ ہیں انہوں ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز عالمی 52 ویں یوم ماحولیات کے موقع پر شعور ترقیاتی تنظیم اور کلائمیٹ چینج ایکشن فورم جنوبی پنجاب کے زیراہتمام “تحفظ ماحول کانفرنس” سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر الگ الگ گفتگو کرتے ہوئے صدر شعور ترقیاتی تنظیم شاہد محمود انصاری اور چیئرمین ڈاکٹر ہمایوں شہزاد نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں سے شعور ترقیاتی تنظیم شہر میں ماحولیاتی آلودگی کے خلاف عملی کوشاں و سرگرم عمل ہے اپنی مدد آپ کے تحت شجر کاری مہم سے لیکر پلاسٹک فری معاشرے کے قیام کے لئے کام کیا جارہا ہے پلاسٹک کی آلودگی ماحولیاتی بحران میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے اگر اس بحران پر قابو نہ پایا گیا تو فضائی آلودگی آئندہ ایک دہائی میں ہی محفوظ سطح سے 50 فیصد تجاوز کر جائے گی جبکہ سمندروں اور تازہ پانی کے ذرائع میں یہ آلودگی 2040 تک تین گنا بڑھ سکتی ہے عالمی یوم ماحولیات پر سماجی ادارے، معاشرے اور لوگ کرہ ارض کو تحفظ دینے اور اس کے فطری ماحول کو برقرار رکھنے کے مشترکہ عزم کی تجدید کرتے ہیں ترقی کے اہداف بالخصوص موسمیاتی اقدامات اور پائیدار صَرف سے متعلق مقاصد کے حصول کی جانب پیش رفت کا عہد بھی کیا جاتا ہے کانفرنس سے اظہار خیال کرتے ہوئے مسز طاہرہ نسیم، مسز شاہدہ شہکی، پیر زادہ گل نسرین اور عابدہ بخاری نے کہا کہ آج کا دن پلاسٹک کی آلودگی کو ختم کرنے کے کی جانے والی کوششوں کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتا ہے اس دن کا مقصد ماحولیاتی مسائل پر شعور بیدار کرنا، قدرتی وسائل کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور پائیدار طرزِ زندگی کو فروغ دینا ہے ریاست یا حکومت کا کردار ماحول کے تحفظ میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، ریاست قانون سازی اور اسکے نفاذ، شجر کاری مہم و قدرتی ذخائر کا تحفظ’ تعلیم و آگاہی، ماحول دوست مصنوعات کا استعمال کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے تاکہ آنے والی نسلیں صاف ماحول میں سانس لے سکیں۔ کانفرنس میں چوہدری منصور احمد، فرحت چغتائی، امیر نواز ملک، ملک محمد یوسف، زمان اکبر، اقبال بلوچ ، عاطف معراج ، عادل محمود انصاری اور خورشید اکبر سمیت دیگر شریک ہوئے ۔








































Visit Today : 191
Visit Yesterday : 369
This Month : 11397
This Year : 59233
Total Visit : 164221
Hits Today : 4473
Total Hits : 814571
Who's Online : 11






















