عید الاضحی قربانی کا پیغام اور روحانی تجدید

تحریر: ایس پیرزادہ

عید الاضحی صرف ایک خوشی کا دن نہیں بلکہ اطاعت قربانی ایثار اور تقربِ الٰہی کی عظیم علامت ہے یہ دن ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس بے مثال قربانی کی یاد دلاتا ہے جس میں انہوں نے اللہ کے حکم پر اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کا ارادہ کر لیا یہ قربانی دراصل وفاداری تسلیم و رضا اور خالص عبادت کا عملی مظاہرہ تھی
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے
“لن ینال اللہ لحومھا ولا دماؤھا ولٰکن ینالہ التقویٰ منکم
(الحج 37)
ترجمہ اللہ کو نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ خون بلکہ اسے تمہاری پرہیزگاری پہنچتی ہے
یہی آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قربانی کا اصل مقصد دل کی پاکیزگی نیت کی سچائی اور اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس خواہشات اور انا کو اللہ کی رضا کے تابع کرنے کا نام ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
عید الاضحی کے دن اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل خون بہانا ہے
(ترمذی)
عید قربان کی بات آئے اور میرے بچپن کی یاد نہ آئے یہ ممکن نہیں جب میں چھوٹی تھی تو میرے والد صاحب عید سے دو تین مہینے پہلے ہی قربانی کا جانور لے آیا کرتے تھے وہ دن کتنے خوشیوں سے بھرپور ہوتے تھے ہم بہن بھائی جانوروں کو چارہ ڈالنا پانی دینا نہلانا ان کے ساتھ کھیلنا یہ سب کام بڑے شوق اور محبت سے کرتے تھے ان جانوروں سے ایک انسیت پیدا ہو جاتی تھی وہ ہمارے خاندان کا حصہ بن جاتے تھے جب قربانی کا دن آتا اور وہ جانور ذبح ہوتے تو ہم پھوٹ پھوٹ کر روتے آج بھی وہ منظر آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے اور دل بھر آتا ہے
اب زندگی کی مصروفیات نے سب کچھ بدل دیا ہے نہ وہ وقت ہے نہ وہ فرصت اب تو ہم لوگ عید سے ایک دن پہلے یا عید کے دن ہی جانور خریدتے ہیں اور فوراً ذبح کر دیا جاتا ہے وہ انسیت وہ تربیت اور وہ جذبات کہیں کھو گئے ہیں قربانی کی اصل روح صرف رسم بن کر رہ گئی ہے جو لمحاتی ہو گئی ہے
عید الاضحی ہمیں نہ صرف اپنے رب سے تعلق مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے بلکہ یہ ہمارے معاشرے کے محروم طبقات کی طرف توجہ دینے کی بھی دعوت دیتی ہے ہمیں اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ ہمارے اردگرد کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو عام دنوں میں گوشت خرید کر کھانے کی استطاعت نہیں رکھتے ان کے لیے عید الاضحی کا دن صرف اس صورت میں خوشیوں بھرا ہوتا ہے جب ہم اپنے حصے کی قربانی کا گوشت ان تک پہنچائیں
قربانی کے گوشت کی تقسیم میں ہمیں انصاف اور ہمدردی کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ صرف رسم کی ادائیگی یا دکھاوے کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے نہ تو ثواب حاصل ہوتا ہے نہ دلوں میں خوشیاں اُترتی ہیں۔ ہمیں اپنی نیتوں کو خالص اللہ کی رضا کے لیے رکھنا چاہیے اور بغیر کسی نمائش کے خاموشی سے، عزت و احترام کے ساتھ غریبوں یتیموں بیواؤں اور مستحق افراد تک گوشت پہنچانا چاہیے
اس موقع پر ہمیں اپنے قریبی رشتہ داروں پڑوسیوں اور محلے کے اُن گھروں کا خاص خیال رکھنا چاہیے جہاں خاموش فاقے ہوتے ہیں جہاں بچے گوشت کے ذائقے سے ناواقف ہیں جہاں سفید پوشی کے پردے میں غربت چھپی ہوتی ہے یاد رکھیں جو چہرہ آپ کے ایک پیکٹ گوشت سے مسکرا اُٹھتا ہے، وہی آپ کے لیے اصل عید ہے
عید کے موقع پر چند دعائیں دل سے نکلتی ہیں، جنہیں آپ بھی دہرا سکتے ہیں
اللّٰہُمَّ تَقَبَّل مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ العَلِيمُ
اے اللہ! ہماری قربانیاں قبول فرما، بے شک تو سننے والا اور جاننے والا ہے
اللّٰهُمَّ اجْعَلْ هَذِهِ الْأَيَّامَ أَيَّامَ خَيْرٍ وَبَرَكَةٍ وَرَحْمَةٍ۔
اے اللہ! ان ایام کو خیر برکت اور رحمت کے دن بنا دے
آئیے! اس عید الاضحی پر ہم صرف جانور ہی قربان نہ کریں بلکہ اپنے اندر کی نفرت حسد غرور اور بے حسی کو بھی قربان کر دیں تاکہ ایک پاکیزہ اور پرامن معاشرہ تشکیل پا سکے
عید الاضحی کی خوشیاں سب کے ساتھ بانٹیں بغیر کسی دکھاوے اور نمائش کے یہی قربانی کا اصل پیغام ہے
اللہ پاک ہم سب کی کی گئی قربانی کو قبول فرمائے ھمارے وہ سب مرحومین جو اس دُنیا سے رُخصت ہو گئے ہیں ان سب کو جنت الفردوس آعلی مقام عطا فرمائے