ملتان (صفدربخاری سے) صہیب عمار صدیقی امیر جماعت اسلامی ملتان نے کہا کہ اسلامی شعائر سے انحراف اور خاندانی نظام پر حملہ ناقابلِ قبول ہے۔ حالیہ عدالتی فیصلے، جس میں کم عمر بچوں کی شادی پر پابندی کی توثیق کی گئی ہے، پر شدید تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف اسلامی تعلیمات کے منافی ہے بلکہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 227 کی بھی صریح خلاف ورزی ہے، جس کے تحت تمام قوانین قرآن و سنت کے تابع ہونا لازم ہے۔ اسلام میں بلوغت کے بعد نکاح کی اجازت دی گئی ہے اور اس بارے میں قرآن و سنت کی ہدایات واضح اور غیر مبہم ہیں۔ بلوغت کے بعد شادی پر پابندی لگانا دراصل شریعت سے انحراف ہے اور مغرب زدہ نظریات کو زبردستی پاکستانی معاشرے پر مسلط کرنے کی کوشش ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے فیصلے خاندانی نظام کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کا سبب بنیں گے، جو کہ پہلے ہی مغربی تہذیب کے یلغار اور سوشل میڈیا کی بے راہ روی کے باعث دباؤ میں ہے۔ پاکستان کا خاندانی ڈھانچہ اسلامی اصولوں پر استوار ہے اور اسے لبرل لابی کے دباؤ پر کمزور کرنا قومی سلامتی اور تہذیبی شناخت دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ امیر جماعت اسلامی ملتان نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہے کہ عدالت عظمیٰ اس فیصلے کا ازسرِ نو جائزہ لے اور قرآن و سنت کی روشنی میں قانون سازی کی جائے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو حتمی حیثیت دی جائے۔ ایسے تمام فیصلے جو اسلامی تعلیمات سے متصادم ہوں، ان کو قانون کا ہر گز حصہ نہ بنایا جائے مغربی ایجنڈے پر بننے والی پالیسیاں مسترد کی جائیں اور دین اسلام کے فروغ کے لیے پالیسیز بنائی جائیں