*کائنات کے راز: وقت کا سفر اور سیارہ Wolf 1069-B*
*کائنات کے راز: وقت کا سفر اور سیارہ Wolf 1069-B*
تحریر: محمد جمیل شاہین راجپوت
کالم نگار و تجزیہ نگار
*تعارف:*
کائنات ایک وسیع و عریض رازوں سے بھری ہوئی حقیقت ہے، جہاں ہر لمحہ نئے انکشافات انسان کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ حال ہی میں سائنسدانوں نے ایک ایسا سیارہ دریافت کیا ہے جس کا نام Wolf 1069-B ہے۔ یہ زمین سے تقریباً 31 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہاں ایک سال صرف سولہ دن پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگر ایک انسان زمین پر 80 سے 85 سال جیتا ہے تو وہ اس سیارے کے حساب سے تقریباً 2000 سال کے برابر ہوگا۔
یہ دریافت جہاں سائنسی طور پر وقت اور کششِ ثقل کی حقیقتوں کو بیان کرتی ہے، وہیں قرآن اور اسلام میں موجود اشاروں کی بھی تصدیق کرتی ہے۔ آئیں، اس سائنسی دریافت پر ایک اسلامی اور فکری نظر ڈالتے ہیں۔
*سیارہ Wolf 1069-B – وقت کا پیمانہ بدلتا کیوں ہے؟*
سائنس کے مطابق وقت ایک مطلق شے نہیں بلکہ خلا، کششِ ثقل اور رفتار کے اعتبار سے بدلتا ہے۔ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت (Theory of Relativity) کے مطابق اگر کوئی چیز روشنی کی رفتار کے قریب حرکت کرے یا کسی بڑی کششِ ثقل والے مقام پر ہو، تو وہاں وقت آہستہ گزرے گا۔
سیارہ Wolf 1069-B زمین سے دو گناہ بڑا ہے اور وہاں کششِ ثقل مختلف ہے، اسی لیے وہاں ایک سال صرف سولہ دن کا ہوتا ہے۔ یعنی زمین پر جو وقت تیزی سے گزرتا ہے، وہاں بہت آہستہ گزرتا ہے۔
*قرآنی اشارے – وقت اور خلائی حقیقتیں*
قرآن مجید میں کئی مقامات پر وقت کی نسبت اور رفتار میں فرق کا ذکر ملتا ہے، جو آج کے سائنسی انکشافات سے حیران کن مماثلت رکھتا ہے:
> “اور وہ تم سے عذاب کی جلدی کرتے ہیں، حالانکہ اللہ اپنا وعدہ کبھی نہیں توڑتا، اور بے شک تمہارے رب کے نزدیک ایک دن تمہارے شمار کے ایک ہزار سال کے برابر ہے۔”
(سورہ الحج: 47)
اسی طرح فرمایا:
> “فرشتے اور روح اس کی طرف چڑھتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔”
(سورہ المعارج: 4)
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ اللہ کے ہاں وقت کا پیمانہ زمین کے وقت سے مختلف ہے۔ یہ تصور آج سائنس میں بھی پایا جاتا ہے، جیسا کہ اس سیارے کی دریافت ہمیں سمجھاتی ہے کہ کس طرح کائنات میں وقت مختلف جگہوں پر مختلف رفتار سے گزرتا ہے۔
*انسانی فہم اور کائناتی بصیرت*
سائنس جب ایسی دریافتیں کرتی ہے تو انسان حیران رہ جاتا ہے کہ کیسے زمین کے علاوہ بھی ایسی دنیائیں موجود ہیں جہاں وقت، فزکس اور زندگی کا تصور مختلف ہے۔ قرآن مجید میں بار بار انسان کو غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے:
> “بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے بدلنے میں عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔”
(سورہ آل عمران: 190)
یہ دریافت ہمیں قرآن کی اس دعوتِ تفکر کی جانب راغب کرتی ہے کہ انسان محض دنیاوی زندگی تک محدود نہ رہے بلکہ کائنات کے رازوں پر غور کرے تاکہ خالق کی عظمت کو پہچان سکے۔
*خلاصہ: اسلام کی سچائی کا عکس*
سیارہ Wolf 1069-B کی دریافت صرف ایک سائنسی کامیابی نہیں بلکہ اسلام کی اس پیشگوئی اور حقیقت کی تصدیق ہے جو چودہ سو سال قبل بیان کر دی گئی تھی۔ قرآن مجید نے وقت، خلا، کششِ ثقل اور کائنات کے عجائب کا جو فلسفہ بیان کیا، وہ آج جدید سائنس کے ذریعے ثابت ہو رہا ہے۔
یہ حقیقت اسلام کی حقانیت اور قرآن کے الہامی ہونے کا واضح ثبوت ہے۔ یہ مضمون ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ قرآن صرف عبادات کی کتاب نہیں بلکہ ایک مکمل رہنمائی ہے، جو انسان کو دنیا و آخرت دونوں کی حقیقتوں سے روشناس کراتی ہے۔








































Visit Today : 216
Visit Yesterday : 369
This Month : 11422
This Year : 59258
Total Visit : 164246
Hits Today : 6690
Total Hits : 816788
Who's Online : 13






















