ملتان : احمد پور سیال موضع رنجیت کوٹ میں نلکے کا زہریلا پانی پینے سے ایک ہی خاندان کے اٹھارہ افراد کی حالت تشویشناک ہو گی نلکے میں قریبی رشتےداروں نے مبینہ طور پر زہر کی گولیاں ڈال دیں تاکہ زہریلا پانی پی کر سب ہلاک ہو جائیں۔تشویشناک حالت میں مریضوں کو قریبی تحصیل ہسپتال میں لایا گیا جہاں سے سات خواتین ،دو مرد اور تین بچوں کو سیریس حالت میں نشترہسپتال ملتان ریفر کیا گیا۔لواحقین نے سرائیکی راہنما مہر مظہر کات کو فون کیا جو نشتر ایمرجنسی میں پہنچے جہاں پر موجود جونئیر ڈاکٹر نے کوئی توجہ نہ دی اور بغیر کوئی ٹیسٹ کیے تمام مریضوں کو فوری وارڈ نمبر گیارہ اور بیس میں بھیج دیا۔ بارہ گھنٹے سے زائد وقت گزر جانے کے باوجود بھی وارڈ میں موجود جونیئر ڈاکٹر نے نہ کوئی توجہ دی اور نہ کوئی ٹیسٹ کروایا۔سرائیکی راہنما جب صبح گیارہ بجے وارڈ میں پہنچے تو دو نوجوان بچیوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہو گی تھی جس پر مہر مظہر کات نے شور مچایا اور جونئیر ڈاکٹر سے احتجاج کیا کہ ابھی تک توجہ کیوں نہیں دی جا رہی اور ٹیسٹ کیوں نہیں کیے گے جس پر ڈاکٹر نےکہا کہ ہو جائیں گے آپ باہر جائیں۔مہر مظہر کات نےبتایا کہ ایم ایس ڈاکٹر امجد کو کئی بار فون کیا مگر انہوں نے اٹینڈ نہیں کیا۔سرائیکی راہنما نے کہا ہے کہ نشتر کے ڈاکٹرز نے غفلت اور تکبر کا رویہ اختیار کیا ہے  وزیر اعلی فوری نوٹس لے کر غفلت کے مرتکب ڈاکٹرز کے خلاف فوری کارروائی کریں اور غیر ذ مہ دار ایم ایس ڈاکٹر امجد کو فوری ہٹایا جائے اور نلکے میں زہر ڈالنے والےملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے ورنہ شدید احتجاج کریں گے