ملتان:  نواب مظفر خان سرائیکیوں کا ہیرو نہیں بلکہ افغان حملہ آوروں کے ملتان پر نامزد کردہ ایجنٹوں کا تسلسل تھا رنجیت سنگھ اور نواب مظفر خان ،، کھوٹے سکے ،، کے دو رخ تھے تاریخ اور اقدار سے نا بلد لوگ انھیں ہیرو بنانے کی کوشش کر کے سرائیکی تحریک کو ،،،، کھاڈے وچوں کڈھ کے تے کھوہ وچ سٹیندے پئین ،،، ہم ایسے نہیں کرنے دینگے ان خیالات کا اظہار عوامی احتساب سیل و نیشنل لیبر الائنس کے مرکزی چیئرمین غازی احمد حسن کھوکھر نے 2 جون کو سقوط ملتان منانے کی آڑ میں افغان حملہ آوروں کو جائز قرار دینے والوں کی مزمت کرتے ہوئے کیا غازی احمد حسن کھوکھر نے کہا سرائیکی تحریک کو کسی جعلی ہیرو کی ضرورت نہیں ہے جو جو سرائیکی لیڈر سرائیکی صوبہ کے لئے کام کرتے رہے ہیں یا ذاتی نمود و نمائش کی بجائے حقیقی کردار ادا کر رہے ہیں وہی سرائیکیوں کے ہیروز ہیں انھوں نے کہا کہ جن جن لوگوں نے جائیدادیں فروخت کر کے اور اپنی حق حلال کی کمائی سے تحریک پر خرچ کیا ان کو بھی لوگ پہچانتے ہیں اور جو دیہاڑی دار بن کر اپنی اپنی فیملیوں کے اخراجات پورے کرتے رہے ان کو بھی لوگ پہچانتے ہیں بیرسٹر تاج لنگاہ سے اصولی اختلاف اپنی جگہ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کے گھر میں تنخواہ وصول کر کے کام کاج کرنے والوں کو بھی انھوں نے تعلیم دلوا کر معاشرے میں مقام دلوایا ان کی وفات کے بعد اگر کوئی اور مخلص سرائیکی لیڈر ہوتا تو سرائیکی پارٹی کا دفتر قائم رہتا مگر افسوس کہ دفتر قائم نہ رہ سکا غازی احمد حسن کھوکھر نے کہا افغان حملہ آوروں نے بھی تو حملہ کر کے قتل و غارتگری لوٹ مار کرکے وہی کچھ کیا تھا جو رنجیت سنگھ نے کیا تھا سرائیکی قوم کے لئے دونوں دشمن تھے غیرت کا تقاضا ہے کہ ہم دونوں کو بطور دشمن یاد رکھیں اپنی آنے نسلوں کو جعلی ہیروز کی نسلوں کا تحفہ دے کر نہ جائیں یہ اپنی آنے والی نسلوں پر احسان ہو گا