حج وہ سفر جو انسان کو خودی کے راز سکھاتا ہے

تحریر:ایس پیرزادہ

حج ایک عبادت ضرور ہے مگر اصل میں یہ ایک روحانی انقلاب کا نام ہے یہ وہ سفر ہے جہاں انسان خود کو بھول کر اللہ کو یاد کرتا ہے جہاں مال لباس حیثیت مرتبہ سب پیچھے رہ جاتے ہیں اور آگے صرف ایک چیز باقی رہتی ہے بندہ اور رب کا رشتہ
جب انسان احرام پہنتا ہے تو وہ دراصل دنیا کے تمام تکلفات کو اتار دیتا ہے وہ دنیا سے ناتا توڑ کر اپنے رب سے ناتہ جوڑنے نکلتا ہے مکہ کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی دل خود بخود جھکنے لگتا ہے میری زندگی کا وہ لمحہ کبھی نہیں بھولتا جب میں پہلی مرتبہ عمرے کے لیے خانہ کعبہ پہنچی
جب میری نظر پہلی بار خانہ کعبہ پر پڑی تو دل کی دنیا جیسے رک گئی آنکھیں بے اختیار اشکبار ہو گئیں میرے دل نے پہلی بار سچ میں جانا کہ سکون وہ نہیں جو دنیا میں ڈھونڈتی پھری سکون صرف اللہ کے در پر ہے ہم بار بار کہتے ہیں سکون کہیں نہیں ہے دل بے چین ہے مگر وہاں جا کر دل نے گواہی دی کہ
سُکون تو صرف یہاں ہے تیرے در پر اے میرے رب
میں نے اپنے دل سے کہا کاش میں یہیں رہ جاؤں۔ اگر میرے بچے نہ ہوتے تو میں وہیں بیٹھ کر رب سے دعا کرتی کہ
یا اللہ! مجھے یہیں اپنی رحمت کی ہوا میں رکھ لے مجھے یہیں اپنی جنت عطا فرما
وہ سفر میرے لیے ایک خواب ایک محبت ایک تسکین اور ایک نئے جنم جیسا تھا
لبیک ایک پکار جو زمین سے آسمان تک جاتی ہے
جب لاکھوں زبانیں ایک ساتھ پکارتی ہیں
لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ
تو ایسا لگتا ہے جیسے پوری کائنات بندے کی فریاد سن رہی ہو یہ صرف لفظ نہیں یہ ایک عہد ہے ایک وعدہ ہے ایک تسلیم ہے میری زبان بھی بے اختیار اس میں شامل ہو گئی اور میں نے اپنے دل سے کہا
اے اللہ! میں حاضر ہوں صرف تیرے لیے تیری رضا کے لیے
حج کے ہر مقام پر ایک درس چھپا ہوا ہے عرفات ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل دن قیامت کا دن ہے جہاں ہم سب ایک میدان میں جمع ہوں گے مزدلفہ سکھاتا ہے کہ زمین پر سونا عزت کی نفی نہیں عاجزی کی علامت ہے منیٰ ہمیں ہمت دیتا ہے کہ اپنے نفس اور شیطان کو ہر دن کنکریاں مارنی ہیں
یہ سب علامتی نہیں حقیقی سبق ہیں حج ہمیں صرف عبادت نہیں سکھاتا زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتا ہے
جب میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑی ہوئی تو میرے دل میں بے شمار دعائیں تھیں سب سے پہلی دعا اپنے بچوں کے لیے کی
رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي، رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ
اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا اے ہمارے رب! میری دعا قبول فرما
میں نے یہ بھی دعا کی
اللّٰهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ أَهْلِ بَيْتِكَ، وَارْزُقْنِي الْمُقَامَ عِندَكَ إِلَى الأَبَدِ
اے اللہ! مجھے اپنے گھر والوں میں شامل فرما اور ہمیشہ کے لیے اپنے قرب میں جگہ عطا فرما
اور پھر قبولیت کے لیے ہاتھ پھیلا دیے
اللّٰهُمَّ اجْعَلْ حَجِّي مَبْرُورًابوَسَعْيِي مَشْكُورًا، وَذَنْبِي مَغْفُورًا وَعَمَلِي مَقْبُولًا وَارْزُقْنِي الْعَوْدَ إِلَىٰ بَيْتِكَ الْحَرَامِ مَرَّاتٍ عَدِيدَةٍ مَعَ الْعَافِيَةِ وَالْقَبُولِ
اے اللہ! میرے حج کو مقبول فرما میری کوشش کو پسند فرما میرے گناہ بخش دے میرے عمل کو قبول فرما اور بار بار اپنے گھر کی حاضری نصیب فرما صحت اور قبولیت کے ساتھ
حج ختم نہیں ہوتا بلکہ وہاں سے اصل زندگی کا آغاز ہوتا ہے حج سکھاتا ہے کہ اگر ہم سچ بولیں نرم رہیں حق پر قائم رہیں اور رب سے جڑ جائیں تو دنیا بدل سکتی ہے
اب ہر دن کو عرفات بنانا ہے ہر رات کو مزدلفہ اور ہر صبح کو منیٰ اور ہر لمحے یہ یاد رکھنا ہے کہ
سکون صرف اللہ کے ساتھ ہے اور جنت اسی کے قرب میں ہے
اللہ پاک سے دعا ہے ہم سب کو جج عمرہ کی سعادت نصیب فرمائے جن کو اللہ پاک نے بلا لیا ھے اس سال ان کے حج کو قبول اؤر مقبول فرمائے ھماری دعاؤں کو قبول فرمائے ھدایت کے راستے پر گامزن رکھتے ہوئے ہم سے وہ نیک کام لے جس سے تو راضی ہو جائے امین ثم امین دعاؤں کی طلبگار