میر احمد کامران مگسی03009846041
پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کردہ “چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025” کے تحت پاکستان میں شادی کی کم از کم قانونی عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے 30 مئی 2025 کو اس بل پر دستخط کیے، جس کے بعد یہ قانون نافذ العمل ہو گیا۔ اس قانون کے مطابق، 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی پر پابندی عائد کی گئی ہے، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں، جن میں قید اور جرمانہ شامل ہیں۔ اس قانونی پیش رفت کے تناظر میں بعض حلقے حضرت عائشہ صدیقہؓ کی کم عمری میں شادی کو دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ تاہم، والد گرامی حضرت علامہ رحمت اللہ طارق کی تحقیق کے مطابق، حضرت عائشہؓ کی شادی کے وقت عمر نو برس نہیں تھی بلکہ متعدد تاریخی حوالوں سے یہ عمر سترہ سے انیس سال کے درمیان ثابت ہوتی ہے۔ حضرت اسماءؓ اور حضرت عائشہؓ کی عمروں کا باہمی فرق، ہجرت کے وقت حضرت عائشہؓ کی شعور بھری یادداشت، اور غزوات میں اُن کی سرگرم شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ایک بالغ، باشعور خاتون تھیں۔
اسلام میں شادی کے لیے عمر کی نہیں بلکہ بلوغت، عقل اور رضامندی کی شرط ہے۔ لہٰذا، موجودہ قانون اگرچہ معاشرتی اصلاح کی نیت سے بنایا گیا ہے، لیکن حضرت عائشہؓ کی عمر کے حوالے سے پھیلائی گئی غلط فہمیوں کی تحقیق کے بغیر ایسے قوانین دینی روایت سے ناآشنائی کا تاثر دے سکتے ہیں۔ یہ آرٹیکل والد گرامی کی شہرہ آفاق تصنیف تفسیر میزان القرآن سے لیا گیا ہے.
میر احمد کامران مگسی03009846041