*اسلامی معاشرہ، ثقافت اور مغربی تہذیبی یلغار: ایک فکری جائزہ*

تحریر: محمد جمیل شاہین راجپوت

کالم نگار و تجزیہ نگار

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو نہ صرف فرد کی زندگی کو بلکہ ایک پورے معاشرے کے تہذیبی، تمدنی اور ثقافتی ڈھانچے کو بھی تشکیل دیتا ہے۔ اسلامی ثقافت کی بنیاد قرآن و سنت پر قائم ہوتی ہے، جس میں حیا، اخلاق، سادگی، عدل، تواضع اور خاندانی نظام جیسے اوصاف مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس، جب کسی اسلامی معاشرے میں غیر اسلامی یا مغربی ثقافتی عناصر کو مسلط کیا جاتا ہے، تو یہ ایک خطرناک تہذیبی حملہ شمار ہوتا ہے، جو اسلامی اقدار کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔

حالیہ دنوں میں پاکستان کے بعض شہروں میں ایسے غیر ملکی ثقافتی مظاہر، جیسے مجسمے، رقص، بے پردگی پر مبنی پروگرامز یا مغربی علامتیں دیکھنے کو ملی ہیں، جو نہ صرف ہماری روایتی اور علاقائی شناخت سے متصادم ہیں بلکہ اسلامی شعائر سے بھی دور ہیں۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:

> “وَأَنَّ هَـٰذَا صِرَٰطِى مُسْتَقِيمًۭا فَٱتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ ٱلسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِۦ ۚ”
“یہی میرا سیدھا راستہ ہے، اسی پر چلو، اور دیگر راستوں پر مت چلو کہ وہ تمہیں اللہ کے راستے سے جدا کر دیں گے۔”
(سورۃ الانعام، آیت 153)

اسلامی معاشرے کو درپیش سب سے بڑا فکری خطرہ یہی ہے کہ جب مسلمان اپنی تہذیب چھوڑ کر دوسروں کی نقالی کرتے ہیں تو اپنی شناخت کھو بیٹھتے ہیں۔

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

> “مَن تَشَبَّهَ بِقَومٍ فَهُوَ مِنهُم”
“جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے، وہ انہی میں سے ہے۔”
(ابو داؤد، حدیث: 4031)

یہ حدیث مبارکہ واضح کرتی ہے کہ محض ظاہری مشابہت ہی انسان کو روحانی و فکری اعتبار سے غیر اسلامی تہذیب کے قریب کر دیتی ہے، اور یہ اسلامی شناخت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

اسلامی ثقافت کی خصوصیات

اسلامی ثقافت میں درج ذیل عناصر نمایاں ہوتے ہیں:

1. حیا اور پردہ
قرآن مجید میں مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور پاکدامنی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے:

> “قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا۟ مِنْ أَبْصَـٰرِهِمْ وَيَحْفَظُوا۟ فُرُوجَهُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَزْكَىٰ لَهُمْ”
(سورۃ النور، آیت 30)

2. سادگی اور وقار
اسلامی فنون لطیفہ، تعمیرات، لباس اور گفتگو میں سادگی، توازن اور معنویت پائی جاتی ہے۔

3. خاندانی نظام کا تحفظ
اسلامی معاشرے میں خاندان کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ مرد و عورت کے تعلقات، شادی، اولاد کی تربیت، والدین کا احترام، یہ سب ثقافت کا حصہ ہیں۔

4. مجسمہ سازی اور تصویری پرستی کی ممانعت
اسلام میں مجسمے بنانا اور ان کو سجاوٹ یا عبادت کے طور پر رکھنا سخت منع ہے:

> “إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ٱلْمُصَوِّرُونَ”
“قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب تصویریں بنانے والوں کو ہو گا۔”
(صحیح بخاری، حدیث: 5954)

ہماری شناخت اور ذمہ داری

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہماری ثقافت مغرب سے مستعار لی گئی نہیں، بلکہ صدیوں پر محیط ایک اسلامی، روحانی، تہذیبی اور اخلاقی ورثہ ہے۔ ملتان، لاہور، پشاور، کراچی یا کوئی بھی پاکستانی شہر ہو، ان سب کی جڑیں اسلامی اور مقامی تہذیب میں پیوست ہیں۔ اگر ہم ان بنیادوں کو چھوڑ دیں اور مغربی مجسمہ سازی، عریانی اور فن کے نام پر ثقافتی دراندازی کو قبول کر لیں تو ہم اپنی نسلوں کو ایک فکری خلا اور بے شناختی کی طرف دھکیلیں گے۔

خلاصہ۔

ایک اسلامی معاشرے میں ثقافت قرآن و سنت کی روشنی میں پروان چڑھتی ہے۔ غیر اسلامی علامات کا فروغ محض فن یا آزادیِ اظہار کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا فکری اور تہذیبی چیلنج ہے، جس کا حل صرف بیداری، علم، شعور اور اتحاد سے ہی ممکن ہے۔ ہمیں اپنی نسلوں کو وہی ورثہ دینا ہے جو ہمارے اسلاف نے قربانیوں سے محفوظ کیا:
ایمان، اخلاق، حیا، غیرت اور اسلامی ثقافتی عظمت۔

اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنی اسلامی شناخت، ثقافت اور دینی غیرت کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔