ملتانی تہذیب کی شناخت پر درآمدی علامتوں کا سایہ کیوں!
تحریر: میر احمد کامران مگسی
ملتان یہ فقط ایک جغرافیائی اکائی نہیں، بلکہ تہذیبوں کا سنگم، روحانیت کا مرکز، اور فنونِ لطیفہ کا ایسا گہوارہ ہے جو صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی زندہ ہے، رواں ہے، بولتا ہے۔ اس شہر کی فضاؤں میں تاریخ کی سانسیں گونجتی ہیں اور اس کی مٹی میں محبت، دانائی اور جمالیات کے ان گنت پرت پوشیدہ ہیں۔ یہاں کے بازار، کوچے، مزار، اور محلے، سب کے سب صرف عمارتیں نہیں، بلکہ ایک ایسی شعور یافتہ تہذیب کے خاموش شاہد ہیں جو ہر دور میں اپنے وسائل، روایات، اور اظہار کے طریقوں کے ساتھ موجود رہی ہے۔ ایسی سرزمین پر جہاں جھمر کی تھرکتی لے، ملتانی اجرک کی نیلگوں وسعت پذیری اور صوفیائے کرام کے آستانوں پر گونجتی قوالی کی وجدانی صدائیں عوام کے شعور کا حصہ ہوں، وہاں ترکی کے رقص درویش کے مجسمے کی تنصیب ایک خاموش سوال بن کر ابھرتی ہے. کیا ملتان کی ثقافت اتنی بنجر اور بے رنگ ہو چکی ہے کہ اسے اپنے اظہار کیلئے اجنبی علامتوں کے سہارے کی ضرورت پیش آ گئی ہے؟

اسلم انصاری آڈیٹوریم (ملتان آرٹس کونسل) کے بالمقابل واقع چوک میں ثقافتی علامت کے طور پر ترکی کے روحانی رقص “سماع درویش” کا مجسمہ نصب کرنا بظاہر ایک روحانی علامت کا اظہار ہے، مگر اس کی تہہ میں ایک فکری اور تہذیبی خلا نمایاں ہوتا ہے۔ یہ محض ایک آرٹسٹک انتخاب نہیں، بلکہ ثقافتی ترجیح کا آئینہ ہے اور جب ایسی ترجیحات مقامی تناظر سے ہٹ کر غیرملکی تناظرات کی طرف جھکاؤ ظاہر کریں تو وہ نہ صرف مقامی فنکاروں، دانشوروں اور مورّخوں کے شعور سے بے خبری کا اعلان ہوتی ہیں، بلکہ ایک مہذب معاشرے کے تہذیبی اعتماد پر بھی سوالیہ نشان چھوڑ جاتی ہیں۔

رقص درویش اپنی جگہ ایک بلند روحانی روایت رکھتا ہے، جس کا مرکز قونیہ ہے، اور جو مولانا روم کی فکری میراث کا ظاہری مظہر ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ملتان جو خود حضرت بہاؤ الدین زکریا، شاہ رکن عالم، اور حضرت شاہ شمس تبریز جیسے جلیل القدر صوفیائے کرام کا دیار ہے، کیا اس کی روحانیات اتنی بے آب ہو چکی ہے کہ اسے اپنی روحانی شناخت کے لیے قونیہ کے استعاروں کی ضرورت محسوس ہو؟ کیا ملتانی جھمر، جو دھرتی کی دھڑکن، زمین کی دعا، اور عوامی وجد کا اظہار ہے، ایک نمائندہ ثقافتی علامت نہیں بن سکتی تھی؟ کیا ملتانی اجرک، جو آج سرائیکی وسیب کی پہچان بن چکی ہے، کسی بلند مقام کی حقدار نہیں؟ اور کیا قوالی، جو ملتان کے صوفی سلسلوں کی روحانی لَے ہے اور صدیوں سے اس شہر کی گلیوں، درگاہوں اور حجرہ نشینوں کی فضا کو وجد آشنا کرتی آئی ہے، کیا وہ ہمارے لیے ایک ثقافتی ترجیح نہیں بن سکتی تھی؟
سرائیکی وسیب کی ثقافت کوئی نووارد حقیقت نہیں، بلکہ ہزاروں سالوں پر محیط تسلسل کا نام ہے۔ یہاں کا فن، موسیقی، گیت، گہنے، لوک رقص، اور زبان، سب کچھ ایک مربوط تہذیبی پیکر کی مانند ہے جو مٹی سے جنم لیتا ہے اور اس دھرتی کی روح سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ بیت الذہب ملتان کو قدیم نام ہے یعنی ملتان کو زمانہ قدیم میں سونے کا گھر کہا جاتا تھا. ملتانی زیورات، ملتانی اجرک ہو، بلوچی کڑھائی، سیندھی، تمبورا، جھمر، یا درگاہوں پر گونجتی قوالیوں کی آوازیں، یہ سب ہمارے شعوری ورثے کا حصہ ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے کسی غیرملکی علامت کو ثقافتی نمائندگی کے مقام پر فائز کرنا ایک خاموش تہذیبی پسپائی ہے۔ اس فیصلے کے پیچھے جو ادارہ جاتی سوچ کارفرما ہے، وہ یا تو سرائیکی تہذیب کی گہرائیوں سے نابلد ہے یا اس کے ساتھ شعوری یا غیر شعوری طور پر لاتعلق۔ وزارتِ ثقافت کے افسران شاید وہ لوگ ہیں جنہوں نے ملتان کو صرف ایک شہر کی حد تک جانا، مگر اس کے تہذیبی لاشعور، روحانی اساس، اور جمالیاتی کشش سے آشنائی حاصل نہ کی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایک ایسی علامت کو چوک کا چہرہ بنا دیا جو اس شہر کے مزاج سے میل نہیں کھاتی۔
یہ وقت ہے کہ ہم بطور قوم، اور بطور تہذیبی وارث، اپنی ثقافت کی بازیافت کریں۔ ہم اپنے مجسموں، اپنے میلوں، اپنے تہواروں، اور اپنی دانشورانہ گفتگو میں اپنے وسیب کے رنگوں کو جگہ دیں۔ ملتان آرٹس کونسل کی نمائندگی کے لیے جھمر رقص کرتی ایک ملتانی بی بی، یا اجرک اوڑھے ہوئے کسی درویش کا مجسمہ، یا قوالی کے عالم وجد میں بیٹھا کوئی سرائیکی قوال، نہ صرف ایک مقامی فنکار کی پہچان ہوتا، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک جیتی جاگتی تہذیبی روایت بھی بن جاتا۔ ثقافت ایک جاندار اور خودمختار اظہار ہے۔ یہ درختوں کی مانند ہے جس کی جڑیں اپنی زمین میں پیوست ہوتی ہیں۔ اگر ہم ان جڑوں کو چھوڑ کر درخت پر لگے ہوئے پرائے پھولوں کی طرف دیکھنے لگیں تو نہ تو وہ پھول ہمارے ہوں گے اور نہ ہی ہمارا شجر کبھی پھلے گا۔
یہ فقط مجسمے کی بات نہیں۔ یہ تہذیبی خودی، فکری وقار، اور تاریخی بیداری کا مسئلہ ہے۔ اور جب یہ سوال اٹھتا ہے تو صرف فنکار ہی نہیں، اہلِ قلم، اہلِ فکر، اور ہر اس فرد کو بولنا چاہیے جو اس وسیب سے جڑا ہے، اس مٹی کی خوشبو کو محسوس کرتا ہے، اور جو نہیں چاہتا کہ ملتان جیسے لازوال شہر کی شناخت اجنبی علامتوں کی اوٹ میں دھندلا جائے۔ ملتانی تہذیب کی شناخت پر درآمدی علامتوں کا سایہ کیوں!