ملتان (صفدربخاری سے ) رنجیت سنگھ کے پیروکار حکمران آج بھی جنوبی پنجاب کے حوالے سے نفرت ، بغض اور کینہ پروری سے کام لیتے نظر آتے ہیں ۔ بحیثیت قوم ہم اپنے اسلاف کی نشانیوں کی حفاظت نہیں کرسکتے اور اس سلسلے میں حکومت کا کردار بھی انتہائی شرمناک ہے ۔مہذب و تعلیم یافتہ اقوام اپنے اسلاف کی یادگاروں کی حفاظت کرتے ہیں لیکن ہم ان یادگاروں کو تباہ کر چکے ہیں ۔ یہ وہ یادگاریں ہیں جن کی دیکھ بھال کر کے ہم سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن ہم ایسا کچھ بھی نہیں کررہے ۔لیکن ہم اسلاف کے کارناموں کو نظر انداز نہیں ہونے دیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار روہی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن ملتان کے زیر اہتمام نواب مظفر خان سدوزئی شہید کی یاد میں مقامی سکول میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سماجی رہنما و چئیرمین نواب مظفر خان سدوزئی شہیدفائونڈیشن ایم احسان خان سدوزئی نے کیا ۔ طلباء سے گفتگو کرتے ہوئے سماجی رہنمائوں ڈاکٹر فاروق لنگاہ، شاہد محمود انصاری اور جواد امین قریشی نے کہا کہ سابق حاکم ملتان نواب مظفر خان سدوزئی شہید ، جس نے 1779ئ؁ سے 1818ئ؁ تک ملتان پر حکمرانی کرتے ہوئے عوامی خدمت کی ایسی مثالیں قائم کی جن کی تاریخ میں کوئی مثال دستیاب نہیں ۔ آج اسی نواب مظفر خان سدوزئی کے شجاع آباد اور مظفر گڑھ میں رہائشی محل و قلعہ کی حالت زار قابل رحم ہے ۔ ملتان میں زیر تعمیر ترقیاتی منصوبوں نشترہسپتال ٹو ، نادر آباد فلائی اوور، ہیڈ محمد والہ روڈ یا دیگر میں سے کسی ایک کو نواب مظفر خان سدوزئی شہید( سابق حاکم ملتان ) کے نام سے منسوب کیا جائے۔ دو جون کو یوم سقوط ملتان کے ضمن میں مقامی طور پر عام تعطیل کا اعلان کیا جائے۔ ان کی یادگاروں کو محفوظ بنایا جائے ۔نواب مظفر خان سدوزئی شہید ( سابق حاکم ملتان )کی قومی خدمات پر مشتمل کتاب شائع کرکے اسے تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ نسلِ نو کو خطہ کے ان قومی ہیرو کے بارے معلومات میسر ہوں۔دیگر مقررنین قاری محمد اقبال ، اعجاز رسول ، مسز خالدہ و طلباء نے کہا کہ 207سال قبل دوجون 1818ئ؁ کو رنجیت سنگھ نے ظلم و بربریت کے ذریعے سابق حاکم ملتان نواب مظفر خان سدوزئی کے تخت کو تاراج کرتے ہوئے ملتان کو تباہ و برباد کیا ، اسکے اثرات آج بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں ۔ خطہ کے لوگ آج بھی بنیادی ضروریات ِ زندگی سے محروم پسماندہ زندگی بسر کررہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خطہ عوام کو تمام بنیادی سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی جائے ۔ اسی خطہ سے لوگ منتخب ہوکر اقتدار کے اعلی ترین ایوانوں میں پہنچے لیکن بدقسمتی سے اقتدار ھاصل کرنے والے تو خوشحال ہوگئے اور عوام بدحالی کے کنارے سے جالگی ہے۔