بجٹ 2025–26،،،حکومت کو ٹیکس وصولی کا ایک شفاف، منصفانہ اور قابلِ اعتماد نظام وضع کرنا ہوگا: چوہدری ذوالفقار علی انجم کا پر بصیرت افروز اظہارِ خیال
ملتان (صفدربخاری سے) چوہدری ذوالفقار علی انجم، چیئرمین ایس ایم گروپ آف انڈسٹریز، ممبر نیشنل ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ بورڈ اور ممبر بورڈ آف انویسٹمنٹ، نے بجٹ 2025–26 کی مجوزہ تجاویز پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے بڑے صنعتکار، جن میں وہ خود بھی شامل ہیں، قومی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے باقاعدگی سے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، لیکن اس کے برعکس چھوٹا کاروباری طبقہ ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہو رہا، جسے اب اس قومی فرض کی ادائیگی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ حکومت کو ٹیکس وصولی کا ایک شفاف، منصفانہ اور قابلِ اعتماد نظام وضع کرنا ہوگا۔ بزورِ طاقت ٹیکس وصولی یا بے جا چھان بین کاروباری طبقے میں بداعتمادی کو جنم دیتی ہے، جو ملکی معیشت کے لیے کسی طور سودمند نہیں۔ ٹیکس ہمیشہ خوش اسلوبی، احترامِ قانون اور سہل طریقۂ کار کے تحت وصول کیا جانا چاہیے۔ چوہدری ذوالفقار علی انجم نے مزید کہا کہ اگر کسی صنعتکار کے خلاف کوئی شکایت یا انکوائری موجود ہو، تو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اور انصاف کے اصولوں کے مطابق ٹیکس کی وصولی کی جائے۔ چھوٹے ٹیکس دہندگان کو بھی چاہیے کہ وہ اپنا قومی فریضہ ادا کریں اور ملک کی ترقی میں مثبت حصہ ڈالیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں کاروباری طبقے کے لیے سازگار ماحول تاحال دستیاب نہیں، جبکہ قومی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ حکومت کاروباری برادری کو تحفظ، سہولیات اور اعتماد فراہم کرے تاکہ وہ ملک کو معاشی بلندیوں تک لے جانے میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ میرے نزدیک مالی سال 2025–26 کا بجٹ جو 10 جون 2025ء کو پیش کیا جانا متوقع ہے، محض ایک مالیاتی دستاویز نہ ہو، بلکہ اسے معاشی اور سماجی عزم اور انتظامی صلاحیت کا عملی امتحان ہونا چاہیے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کا اعتماد—جس کی توثیق توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے پہلے جائزے کی تکمیل اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (RSF) کی منظوری سے ہوئی ہے—اصلاحات کے لیے ایک نادر موقع ہے، جسے حکومت وقت کے لئے دانش مندی سے بروئے کار لانا ناگزیر ہے۔ بالواسطہ ٹیکس، خصوصاً جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کا بوجھ محدود اور مقرر آمدنی والے گھرانوں پر غیر متناسب انداز سے پڑتا ہے، جس سے ان کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اشیائے ضروریہ اور بنیادی سہولیات پر سیلز ٹیکس کی شرح میں کمی پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ ادارہ جاتی اصلاحات ہونی چاہیے۔ بجٹ میں اراضی کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن، نادرا کو معاشی ڈیٹا بیسز کے ساتھ منسلک کرنے، اور ریگولیٹری اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے مالی وسائل مختص کیے جانے چاہئیں۔ انسدادِ بدعنوانی کے اداروں کو مؤثر نگرانی اور عوامی اخراجات میں شفافیت کے فروغ کے لیے مناسب فنڈنگ فراہم کی جائے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی جانب سے گورننس ڈائیگنوسٹکس پر زور کو بجٹ میں ایسی عملی تدابیر کی صورت میں ڈھالا جانا چاہیے جو اداروں کو مستحکم کریں اور عوام کا اعتماد بحال کریں۔ بجٹ میں لازم ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کو بآسانی قرض کی فراہمی ممکن بنائی جائے، جس کے لیے شرحِ سود میں سبسڈی اور ضمانتی اسکیموں کا اجرا کیا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ٹیکنالوجی پارکس، برآمدی کلسٹرز، اور ہنر مندی کی تربیت کے لیے بجٹ میں مناسب فنڈز مختص کرے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور مسابقتی صلاحیت میں اضافہ ہو۔ بیرونی معاشی استحکام کی تعمیر ہے۔ اس ضمن میں بجٹ کو ایسے اقدامات پر مرکوز ہونا چاہیے جو برآمدات میں تنوع کو فروغ دیں، جن میں شعبہ جاتی مراعات اور برآمدی طریقہ کار میں سادگی شامل ہو۔ زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ترسیلاتِ زر کو رسمی ذرائع سے ملک میں لانے کی حوصلہ افزائی کی جائے، جس کے لیے پُرکشش بچت اسکیمیں متعارف کرائی جائیں۔ حکومت کے پاس یہ سنہری موقع ہے کہ وہ اس بجٹ کو قومی معیشت میں انقلابی تبدیلی کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرے۔ ترجیحات میں وضاحت، عالمی اداروں سے ہم آہنگی، اور ملکی ضروریات کا بر وقت ادراک مل کر ایک پائیدار معاشی راستے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ اب تدریجی اور نیم دلانہ اقدامات کا وقت گزر چکا ہے۔ موجودہ لمحہ جرات، نظم و ضبط اور عملی اقدام کا تقاضا کرتا ہے۔ ممکن ہے کہ پاکستان کی معاشی تقدیر کا نقشہ مالی سال 2025–26 کے بجٹ کے اوراق میں رقم ہو رہا ہو۔ آخر میں میں یہ کہوں گا کہ سیکیورٹی ادارے جہاں دفاعی کردار ادا کرتے ہیں، وہیں ملکی تعمیر و ترقی میں ان کی شمولیت ایک مستحکم اور خودمختار پاکستان کی ضمانت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سیکیورٹی اداروں کی ضروریات اور جدید تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک متوازن، شفاف، اور مستقبل بین بجٹ ترتیب دے۔









































Visit Today : 217
Visit Yesterday : 369
This Month : 11423
This Year : 59259
Total Visit : 164247
Hits Today : 6869
Total Hits : 816967
Who's Online : 7






















