فوج ملک کے دفاع کیلئے ہے نہ کہ کاروبار کرنے کیلئے، چیف جسٹس
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے کنٹونمنٹ اراضی پر کمرشل سرگرمیوں سے متعلق سیکرٹری دفاع کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے دی۔سپریم کورٹ میں کنٹونمنٹ اراضی پر کمرشل سرگرمیوں کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے سیکرٹری دفاع کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے دی۔ اٹارنی جنرل کی استدعا پر عدالت نے رپورٹ واپس لینے کی اجازت دیدی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا سنیما، شادی ہال، سکول اور گھر بنانا دفاعی مقاصد ہیں؟ کراچی میں تمام غیر قانونی عمارتیں مسمار کروا رہے ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ فوج کی غیر قانونی تعمیرات کو چھوڑ دیں، فوج کی غیر قانونی تعمیرات کو چھوڑ دیا تو باقی کو کیسے گرائیں گے؟ اٹارنی جنرل صاحب فوج کو قانون کون سمجھائے گا؟ فوج کیساتھ قانونی معاونت نہیں ہوتی وہ جو چاہتے ہیں کرتے رہتے ہیں، فوج جن قوانین کا سہارا لیکر کمرشل سرگرمی کرتی ہے وہ غیرآئینی ہیں، کارساز کراچی میں سروس روڈ بھی بڑی بڑی دیواریں تعمیر کرکے اندر کر دی گئیں، کنٹونمنٹ زمین کو مختلف کیٹیگریز میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا، پرل مارکی اور گرینڈ کنونشن ہال ابھی تک برقرار ہیں، کالاپُل کیساتھ والی دیوار اور گرینڈ کنونشن ہال آج ہی گرائیں، کارساز اور راشد منہاس روڈ پر اشتہارات کیلئے بڑی بڑی دیواریں تعمیر کر دی ہیں۔






































Visit Today : 333
Visit Yesterday : 579
This Month : 4779
This Year : 68498
Total Visit : 173486
Hits Today : 10454
Total Hits : 948258
Who's Online : 16






















