ملتان(صفدربخاری سے)حضرت مولانا محمد ادریس رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت عظیم سانحہ قراروفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیرِ اہتمام پریس کلب ملتان میں عظیم الشان تعزیتی ریفرنس منعقد ہوئی، جس سے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظمِ اعلیٰ، جامعہ خیر المدارس ملتان کے مہتمم، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد حنیف جالندھری نے جنوبی پنجاب اور ضلع ملتان کے علماءِ کرام، مشائخِ عظام اور دینی مدارس کے ذمہ داران کے ہمراہ خطاب فرمایا۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک اور جامعہ نعمانیہ چارسدہ کے شیخ الحدیث، استاذ العلماء حضرت مولانا محمد ادریس رحمۃ اللہ علیہ کی المناک شہادت نہ صرف دینی حلقوں بلکہ پورے عالمِ اسلام کے لیے عظیم سانحہ اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔حضرت مولانا محمد ادریس رحمۃ اللہ علیہ کی علمی و دینی خدمات مولانا محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ حضرت مولانا محمد ادریس رحمۃ اللہ علیہ علومِ نبوت کے امین، اکابر اہلِ حق کے ترجمان اور لاکھوں طلبہ و علماء کے علمی و روحانی مربی تھے۔ ان کے دروسِ حدیث، علمی خدمات اور دینی فیوض سے برصغیر سمیت دنیا بھر میں بے شمار افراد مستفید ہوئے۔انہوں نے کہا کہ حضرت مولانا حسن جان شہید رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا سمیع الحق شہید رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اکابر علماء کی مسلسل شہادتیں اس امر کا ثبوت ہیں کہ دینی قیادت کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ ریاستی سطح پر ان کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔دینی مدارس کی قومی و ملی خدمات کا اعتراف انہوں نے کہا کہ دینی مدارس اس ملک کا سب سے بڑا، پُرامن، خودمختار اور نظریاتی تعلیمی نیٹ ورک ہیں، جنہوں نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ مدارسِ دینیہ نے دہشت گردی کے خلاف واضح اور دوٹوک فتاویٰ جاری کیے، ”پیغامِ پاکستان“ جیسے قومی بیانیے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا، اور نوجوان نسل کو انتہاپسندی سے بچانے، حب الوطنی کے فروغ اور قیامِ امن میں ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ لاکھوں غریب اور مستحق طلبہ کو مفت دینی و اخلاقی تعلیم فراہم کرنے والے یہی مدارس ہیں، جو قوم کے محروم طبقات کے لیے امید کا مرکز ہیں۔ دینی مدارس نے ہمیشہ ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی اور ہر قومی بحران میں ریاستی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔دینی مدارس اور علماء کے ساتھ ناروا سلوک پر تشویش مولانا محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انہی دینی مدارس کو مسلسل بداعتمادی، غیر ضروری دباؤ اور انتظامی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ دینی مدارس کی قانونی رجسٹریشن کے عمل کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنایا جا رہا ہے، مدارس کے بینک اکاؤنٹس بند کیے جا رہے ہیں، جبکہ نئے اکاؤنٹس کھولنے میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ علماءِ کرام اور مشائخِ عظام کو مناسب سیکیورٹی فراہم نہیں کی جا رہی، حالانکہ وہ مسلسل دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ایک طرف علماء دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں اور دوسری طرف ریاستی اداروں کا غیر مناسب رویّہ مذہبی طبقے میں شدید اضطراب پیدا کر رہا ہے۔علماء کی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے علماءِ کرام اس صورتِ حال پر شدید تشویش میں مبتلا ہیں اور علماء کی خاموشی کو ہرگز کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اگر دینی مدارس اور علماءِ کرام کے خلاف امتیازی اور ناروا رویّے ختم نہ کیے گئے تو اس کے منفی اثرات پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔قاتلوں کی فوری گرفتاری اور تحفظِ علماء کا مطالبہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حضرت مولانا محمد ادریس رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر علماء و مشائخ کے قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔ ساتھ ہی علماءِ کرام، مساجد، مدارس اور مذہبی قیادت کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اقدامات کیے جائیں۔دینی مدارس اپنا مشن جاری رکھیں گے مولانا محمد حنیف جالندھری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اکابر علماء کے علمی، دینی اور اصلاحی مشن کو ہر صورت جاری رکھا جائے گا اور دینی مدارس ملک کی نظریاتی، دینی اور اخلاقی حفاظت کا فریضہ پہلے کی طرح انجام دیتے رہیں گے۔حکومتی اقدامات اور ٹارگٹ کلنگ کی مذمت انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے قربانی کی کھالوں پر پابندی، بلوچستان میں دینی مدارس کی بندش، اور خیبرپختونخوا و بلوچستان میں علماءِ کرام کی ٹارگٹ کلنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ علماءِ کرام اپنے آئینی اور جمہوری احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔خصوصی دعاؤں کی اپیل آخر میں انہوں نے ملک بھر کے علماء، مشائخ اور دینی مدارس کے منتظمین سے اپیل کی کہ وہ اپنے تحفظ کے لیے ضروری انتظامات کریں اور حضرت مولانا محمد ادریس رحمۃ اللہ علیہ کی بلندیء درجات، مغفرت اور ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں۔شرکائے تعزیتی ریفرنس اس تعزیتی ریفرنس اور میں وفاق المدارس العربیہ پنجاب کے ناظم حضرت مولانا زبیر احمد صدیقی، ضلع ملتان کے مسؤول حضرت مولانا شمشاد احمد، مولانا اشفاق قاسمی مسؤل وفاق المدارس العربیہ ضلع کوٹ ادو مولانا محمد یاسین مہتمم جامعہ ابوھریرہ میلسی مولانا عبد المالک مسؤل وھاڑی مولانا محمد زبیر مسؤل ضلع وھاڑی مولانا محمد وقاص کریم مہتمم جامعہ عمر بن خطاب ملتان قاری سعید احمد امیر جمعیت علماء اسلام ملتان مفتی ممتاز ملتان قاری محمد طسین رھنما جمعیت علماء اسلام ملتان مولانا محمد رفیق ممبر امن کمیٹی ملتان، مولانا قاری محمد طاھر رحیمی شیخ الحدیث جامعہ قاسم العلوم ملتان مولانا محمد ریاض وٹو مولانا عبد الماجد وٹو مفتی عمر فاروق جامعہ دارالعلوم رحیمیہ ملتان مولانا قاری عبد الستار مہتمم جامعہ علوم اسلامیہ ملتان معاون مسؤول حضرت مولانا محمد قاسم قاسمی مجلس احرار اسلام ملتان کے امیر مولانا محمد اکمل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان کے مبلغ مولانا وسیم اسلم سمیت جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے علماءِ کرام، مشائخِ عظام، خطباء اور دینی مدارس کے ذمہ داران نے شرکت کی۔