یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کا عہدہ سرائیکی قوم پرستوں کی جدوجہد سے ملا،،،آل پارٹیز صوبہ سرائیکستان کانفرنس میں بھرپور شرکت کرینگے،رئوف خان ساسولی کی ظہور دھریجہ سے ملاقات
ملتان (صفدربخاری سے) آل پارٹیز صوبہ سرائیکستان کانفرنس میں بھرپور شرکت کرینگے ، وسیب کے لوگوں کو اپنے حقوق کیلئے باہر آنا ہوگا ، یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کا عہدہ سرائیکی قوم پرستوں کی جدوجہد سے ملا ۔ ان خیالات کا اظہار سینئر بلوچ قوم پرست رہنما رئوف خان ساسولی نے ملتان میں چیئرمین سرائیکستان قومی کونسل ظہور دھریجہ سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر الطاف بیگ، شیدا سرائیکی ، اشرف پٹھانے خان اور ثوبیہ ملک بھی موجود تھے۔ رئوف خان ساسولی نے کہا کہ پاکستان کے محکوم اور پسماندہ طبقات کواپنے حقوق کے لیے متحد ہونا ہوگا،مافیاز کا آپس میں گٹھ جوڑ ہے ، غریب اور محکوم طبقے کااستحصال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نگران دور میں گندم درآمد کر کے پاکستان کے کسانوں کو تباہ کر دیا گیا، تین سو ارب روپے کا سکینڈل ہے ، تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ سرائیکی قوم کا اپنا خطہ ، اپنی تہذیب اور اپنی ثقافت ہے، صوبہ سرائیکستان کے قیام سے وفاق متوازن ہوگا ۔ رئوف خان ساسولی نے کہا کہ صوبہ سرائیکستان کے لیے ظہور دھریجہ کی جدوجہد تاریخ کا حصہ ہے، گزشتہ سال آل پارٹیز صوبہ سرائیکستان کانفرنس منعقد کرائی جس کے دورس نتائج برآمد ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ وسیب کے لوگوں کی جدوجہد سے صوبہ ملے گا، سید یوسف رضا گیلانی کا چیئرمین سینیٹ بننا خوش آئند ہے مگر یہ عہدہ ان کو سرائیکی قوم پرستوں کی جدوجہد سے ملا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے اور حقوق کی تحریک جتنی تیز ہوگی قابض قوتیں اُسی قدر کمزور ہوں گی اور ان کے پاس صوبہ اور حقوق دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ رئوف خان ساسولی نے کہا کہ بلوچستان کے حالات ٹھیک نہیں ، سرائیکی مزدوروں کا قتل شرمناک ہے، بیرونی قوتیں انتشار پھیلا رہی ہیں ۔ انہوں نے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے کوئٹہ میں دوسرے صوبوں سے آنے والوں کے گھروں میں اشتہار پھینکے گئے کہ گھر خالی کر دیں، مقصد بلوچوں کو بدنام کرنا تھا ، جب ان لوگوں کو گرفتار کیا گیا تو وہ ازبک تھے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سرائیکی رہنما ظہور دھریجہ نے کہا کہ دوسری سالانہ آل پارٹیز صوبہ سرائیکستان کانفرنس رواں ماہ ملتان میں ہو گی ، تاریخ کا اعلان ایک دو دن میں کر دیں گے، تمام سیاسی جماعتوں اور قوم پرستوں کو کانفرنس میں شرکت کے دعوت نامے بھجوائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہو گی کہ وسیب کے علاوہ دیگر صوبوں سے شخصیات کی بھر پور نمائندگی ہو ، لبرل پنجابی دانشوروں کو بھی دعوت دیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس مرتبہ کانفرنس کا عنوان ’’صوبہ سرائیکستان کے قیام میں تاخیر کیوں‘‘ ہے،یہ عنوان اس بناء پر بھی درست ہے کہ آج پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کی اتحادی حکومت قائم ہے، صوبے کے قیام میں اب تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ ظہور دھریجہ نے کہا کہ پونم کی طرز پر پاکستان کی محکوم قوموں کے اتحاد کی ضرورت ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں بسنے والی مختلف قوموں کو ان کے تہذیبی حقوق دئیے جائیں ، پاکستانی زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دیا جائے اور ماں بولی میں تعلیم کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے بچے کو پرائمری سے اس کی مادری زبان میں تعلیم دی جائے۔



































Visit Today : 597
Visit Yesterday : 541
This Month : 15361
This Year : 63197
Total Visit : 168185
Hits Today : 2577
Total Hits : 864760
Who's Online : 6




















