جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 19 برس بیت گئے
کراچی: بے دلی کیا یوں ہی دن گزر جائیں گے. صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے، اردو زبان کے باکمال شاعر جون ایلیا کی 19 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔منفرد اسلوب اور دھیمے لہجے کے حامل جون ایلیا نے اردو ادب کو ایک نئی جہت سے روشناس کروایا، 14 دسمبر 1931ء کو بھارت کے شہرامروہہ میں پیدا ہونے والے جون ایلیا کو انگریزی، عربی اور فارسی زبان پر بھی مکمل عبور حاصل تھا۔ان کا پہلا شاعری مجموعہ ’شاید‘ کے نام سے 1991ء میں شائع ہوا جس کو اردو ادب کا دیباچہ قرار دیا گیا۔ اردو ادب میں جون ایلیا کی نثر اور اداریے کو باکمال تصور کیا جاتا ہے۔ جون ایلیا کے شعری مجموعوں میں ’یعنی‘، ’گمان‘، ’لیکن‘، ’گویا‘ اور ’امور‘ شامل ہیں۔ ان کی تصانیف کو ادب دانوں میں پذیرائی ملی جب کہ فمود کے نام سے مضامین کی تصنیف بھی قابل ذکر ہے۔ الگ تھلگ نقطہ نظر اور غیر معمولی عملی قابلیت کی بناء پر جون ایلیا ادبی حلقوں میں ایک علیحدہ مقام رکھتے تھے۔ جون ایلیا اپنی نوعیت کے منفرد شاعرتھے۔




































Visit Today : 591
Visit Yesterday : 541
This Month : 15355
This Year : 63191
Total Visit : 168179
Hits Today : 2504
Total Hits : 864687
Who's Online : 4




















