اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل اور پاکستانی حکام کی غفلت

تحریر : کلب عابد خان

اوورسیز پاکستانیز دنیا بھر میں بسلسلہ روز گار رہتے ہیں جن کی تعداد لگ بھگ 1 کروڑ کے قریب ہے رواں سال تو مزید اضافہ ہوا ہے اوورسیز پاکستانی پہلے بھی معیشت کی بہتری کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے ادارے جو وزیراعظم اور وزیر اعلی کے ماتحت اوورسیز پاکستانیوں کے لیے بنائے ہوئے ہیں ادارے اوورسیز پاکستانی فاونڈیشن اور اوورسیز پاکستانی کمیشن پنجاب دونوں ادارے اوورسیز پاکستانی کے مسائل کو حل کرنے میں مکمل ناکام ہوچکے ہیں ان ادارے کے پاس اختیارات ہی نہیں کہ وہ اوورپاکستانیوں کے مسائل کو حل کر سکیں ان اداروں نے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو کم کرنے کی بجائے مسائل میں اضافہ ہی کیا ہے ان دونوں محکموں کی زمہ داری محض ایک پوسٹ آفس کی ہے جو اوورسیز پاکستانیوں سے شکایات لے کر دیگر محکموں کو بجھوا دیتے ہیں صوبائی طور پر ڈسٹرکٹ اوورسیز پاکستانی کمیٹیاں بنائی گئیں جو ان اداروں میں درج شکایات کو ڈسٹرکٹ اوورسیز پاکستانی کمیٹی کو بجھوایا جاتا ہے ڈسٹرکٹ اوورسیز کمیٹی جو ڈپٹی کمشنرز کے ماتحت بنائی ہوئی ہیں تو معلوم ہوا ہے عرصہ 4 سال سے کسی اوورسیز پاکستانی کو بلایا ہی نہیں گیا اور میٹنگ بھی نہیں ہوئیں اب ڈسٹرکٹ اوورسیز کمیٹیوں میں شامل اداروں سے وہ ہی افسران و اہلکار ہیں جن کے خلاف شکایات کی گئیں ہیں جو پہلے ہی مخالفین سے رشوت لے کر مدد فراہمی میں شامل ہوتے ہیں اب وہ ہی ادارے اور وہی افسران انہی اداروں کو خط لکھتے ہیں کہ اوورسیز پاکستانی کے مسلئے کو جلد از جلد حل کیا جائے ان محکموں کا کام ہے کہ وہ جواب دیں یا نہ دیں اگر جواب دے بھی دیں وہ شکایات کے مطابق ہیں بھی سہی یا نہیں اس کا جائزہ تک نہیں لیا جاتا اور درج شکایات کو بند کردیا جاتا ہے اوورسیز پاکستانی شکایات کے ازالے کے لیے رابطہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ شکایات تو حل کر دیں ہیں جب کہا جائے کہ وہ اس شکایات کا جواب ہی نہیں تو محکمہ اوورسیز پاکستانی فاونڈیشن و محکمہ اوورسیز پاکستانی کمیشن پنجاب کا کہنا ہوتا ہے کہ آپ دوبارہ شکایات درج کروائیں ہم آپکی شکایات کا ازالہ کرواتے ہیں جب شکایات درج کروا بھی دی جائیں تو شکایات کا ازالہ ہوتے ہوتے اوورسیز پاکستانیوں کو عدالتوں سے رجوع کرنے کا مشورہ دے دیا جاتا ہے جب عدالت سے رجوع کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے اگلے روز ہی ہماری شکایات کو یہ کہہ کر بند کردی جاتی ہے کہ کیس عدالت میں زیر سماعت ہے لہذا اسے حل کرنے کا اختیار ہمارے ڈائرہ اختیار میں نہیں اگر اوورسیز پاکستانی صوبائی محکموں کے خلاف صوبائی محتسب کے اداروں سے رجوع کریں تو اس محکموں میں بھی کوئی شنوائی نہیں ہوتی کئی کئی ماہ کیس کا فیصلہ نہیں ہوتا اور اگر فیصلہ کر بھی دیا جائے تو محکمہ کے خلاف نہیں کیا جاتا محکمہ کے حق میں اور اوورسیز پاکستانی کے خلاف کیئے جاتے ہیں اگر فیصلے کی اپیل کے لیے گورنر پنجاب کو اوورسیز پاکستانی لکھے تو گورنر پنجاب کے پاس 6 ماہ سے وقت ہی نہیں کہ ا سکا جواب دے ابھی تک تو یہ ہی حالات ہیں صدر پاکستانی چیف آف آرمی سٹاف ، چیف جسٹس آف پاکستان سے اوورسیز پاکستانی اپیل کرتے ہیں کہ اس پر توجہ دیں تاکہ اوورپاکستانی پاکستان میں آئیں اور کاروبار کریں جائیدادوں کی خریدو فروخت کریں جس سے ملک میں ترقی کا سفر آسان ہو گا اگر توجہ نہ دی تو حالات جو پہلے ہی خراب ہیں وہ مزید خرابی کا باعث بنیں گے معیشت کی بہتری کے لئے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل پر توجہ دیں بلاوجہ جھوٹے کیسز عدالتوں میں چلائے جارہے ہیں موجودہ کیسز مخالفین سے اداروں کی مدد سے چلائے جارہے ہیں کیونکہ یہ سب مخالفین سے پیسے لے کر انہیں مدد فراہم کررہے ہیں اور اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے اضافے کا باعث بنتے ہیں اسی لیے اوورسیز پاکستانی اس موجودہ نظام کے مکمل خلاف ہیں جہاں انصاف بروقت نہیں ملتا