عالمی یومِ آزادی صحافت 2026: ملتان پریس کلب کے سامنےصحافیوں کا بھرپور احتجاج ، پاکستان میں صحافت غیر محفوظ اور میڈیا بحران کا شکار قرار ، قیادت احتشام الحق مرزا نے کی
ملتان (بیورورپورٹ) عالمی یومِ آزادی صحافت 2026 کے موقع پر ملتان یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام پریس کلب کے سامنے ایک بھرپور احتجاجی مظاہرہ اور ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس کی قیادت صدر احتشام الحق مرزا نے کی۔ مظاہرے میں جنرل سیکرٹری ایم یو جے جاوید اقبال عنبر،ممبر ایف ایس سی و فنانس سیکرٹری پریس کلب رؤف مان، جنرل سیکرٹری پریس کلب ملتان مظہر خان،پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کونسل کے رکن اور صدر سٹی کونسل پاکستان ملک ارشد اقبال بھٹہ،صفدر بخاری، نائب صدر پریس کلب حافظ سرفراز علی، ملک امجد سعید،مقبول تبسم، اجمل چودھری ، رانا عبدالرؤف، شہزاد درانی ،سہیل قریشی، ارشد ملک، سہیل نیاز،فرید ملک ، خالد کھاکھی ، اظہار ملک ، سرفراز نیازی ، جی آر گرمانی ، نوبہار نیاز، نفیس خان، زین العابدین سمیت صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر آزادی صحافت، اظہار رائے کے تحفظ اور صحافیوں کے حقوق کے حق میں نعرے درج تھے۔ اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں نہ صحافت آزاد ہے اور نہ ہی صحافی محفوظ ہیں، جبکہ میڈیا انڈسٹری شدید بحران کا شکار ہو چکی ہے۔ ہزاروں صحافی اور میڈیا ورکرز جبری برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور معاشی بدحالی کا سامنا کر رہے ہیں۔مقررین نے کہا حکومتی پالیسیوں کے ذریعے میڈیا پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے اور آزادی اظہارِ رائے کو محدود کیا جا رہا ہے۔ پیکا ایکٹ سمیت دیگر قوانین کو آزادی صحافت پر قدغن قرار دیتے ہوئے ان میں فوری ترامیم یا خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔اس موقع پر مقررین نے کہا کہ صحافی برادری نہ صرف سیکیورٹی خطرات بلکہ شدید معاشی بحران سے بھی دوچار ہے۔ میڈیا ورکرز کو بروقت تنخواہوں کی عدم ادائیگی، جبری برطرفیاں، ویج بورڈ ایوارڈ پر عملدرآمد نہ ہونا اور تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ سسٹم جیسے مسائل سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔ مظاہرین نے اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ آزادی صحافت اور اظہار رائے کے خلاف تمام قوانین فوری ختم کیے جائیں، اعلانیہ و غیر اعلانیہ سنسرشپ کا خاتمہ کیا جائے، برطرف کیے گئے صحافیوں کو فوری بحال کیا جائے اور تمام میڈیا ورکرز بشمول علاقائی نمائندگان کے لیے باقاعدہ سروس اسٹرکچر تشکیل دیا جائے۔ مزید برآں صحافیوں کے لیے ہیلتھ انشورنس کو لازمی قرار دیا جائے، اعزازی نمائندگی کے نظام پر پابندی لگائی جائے اور میڈیا ہاؤسز کے بیوروز کی فروخت بند کی جائے۔مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صحافی برادری آزادی صحافت، جمہوری اقدار کے فروغ اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی، اور مطالبات کی عدم منظوری کی صورت میں احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔



































Visit Today : 340
Visit Yesterday : 497
This Month : 1373
This Year : 65092
Total Visit : 170080
Hits Today : 3374
Total Hits : 885450
Who's Online : 6





















