ملتان(صفدربخاری سے)بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اور پیدا شدہ مہنگائی کے خلاف مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کی کال پر ملک کے دیگر شہروں کی طرح ملتان میں کاروباری وتجارتی سرگرمیاں معطل رہیں۔شہر کے مختلف علاقوں،مارکیٹوں اور بازاروں میں تاجروں اور شہریوں نے احتجاجی مظاہرے بھی کئے اور بجلی کے بل جلا ڈالے۔ ملتان میں مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کی کال پر ہڑتال کی گئی اس حوالے سے اتحادی تاجر تنظیموں نے بھی اپنے اپنے بازاروں کو مکمل بند رکھا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔شہر کے مختلف علاقوں مظفرآباد،شیر شاہ مین بازار،ملتان کینٹ،التمش روڈ تا مال روڈ کینٹ،گجر کھڈا التمش روڈ،عظمت واسطی روڈ، ڈیرہ اڈا،نواں شہر، کلمہ چوک،ابدالی روڈ،گھنٹہ گھر،شریف پلازہ،کچہری روڈ سلطان موبائل پلازہ، رحمہ سنٹر،کچہری روڈ بابر سینما،حسین آگاہی، مین سرکلر روڈ،چوک بازار حسین آگاہی،گلی کمنگرا ں والی،حسین آگاہی آٹو مارکیٹ،دولت گیٹ،مچھلی منڈی،شاہ شمس روڈ، خونی برج،پاک گیٹ،حرم گیٹ،صرافہ بازار،چوک شہید اکبر روڈ،پرانی سبز منڈی چوک شہیداں،اردو بازار پیپر مارکیٹ،مین اردو بازار، بوہر گیٹ، کالے منڈی،اندرون حرم گیٹ،اندرون بوہر گیٹ،معصوم شاہ روڈ،چوک کمہارنواں والہ،ایم اے جناح، روڈ پیرا ں غائب،سمیجہ آباد، 40 فٹی روڈ،گلشن مارکیٹ نیو ملتان،شاہ رکن عالم ٹی چوک، چونگی نمبر 14 ہول سیل کپڑا مارکیٹ،رابی کلاتھ مارکیٹ،المکہ پلازہ چونگی نمبر 14،حافظ جمال روڈ،منظور آباد چوک،رشید آباد،چونگی نمبر نو،ٹمبر مارکیٹ،چاہ جموں والا،چونگی نمبر 22 ولایت آباد،غلہ گودام۔فیضی روڈ،پرانا شجاع آباد روڈ،فاروق پورہ چوک،قاسم بیلہ،اڈہ بند بوسن،جنرل بس سٹینڈ، 17 کسی،وہاڑی روڈ،سیتل ماڑی،قادر پور راں، متی تل روڈ،کھاد فیکٹری میں کاروبار مکمل طور پر بند رہا اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اور پیدا شدہ مہنگائی کے خلاف شہر کے مختلف علاقوں،مارکیٹوں اور بازاروں میں تاجروں اور شہریوں نے احتجاجی مظاہرے بھی کئے۔اس حوالے سے مرکزی مظاہرہ حسین آگاہی میں کیا گیا جس کی قیادت مرکزی چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی نے کی۔اس موقعہ پر ان کے ساتھ مرکزی عہدیدار شیخ جاوید اختر،سید جعفر شاہ،قومی تاجر اتحاد کے سلطان محمود ملک،رانا ہاشم،صدیق تھیہیم،شیخ پرویز اختر،عارف خان سمیت دیگر تاجر رہنما موجود تھے۔مقررین نے خطاب کرتے کہا آئی ایم ایف کی ڈیکٹیشن پر قوم کو اندھے کنویں میں دھکیل دیا ہے۔چھوٹے تاجروں اور ملک کی 26 کروڑ سے زائد غریب عوام کو 40، 40 ہزار کے بل دئیے جا رہے ہیں جن کی معمولی تنخواہیں ہیں ایسے حالات میں چھوٹے تاجر،محنت کش مزدور کسان اور چھوٹے ملازمین کہاں جائیں جن سے 16 فی صد بھاری اضافی ٹیکسز زبردستی وصول کئے جا رہے ہیں افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر مہنگے داموں آ ٹا گھی چینی ودیگر اشیائے خوردونوش و صرف مل رہی ہیں جس کی وجہ سے غریب شہری بچوں سمیت خود کشیوں پر مجبور ہو رہے ہیں اور سفید پوش طبقہ پس کر رہ گیا ہے ملک بھر میں 80 لاکھ سے زائد دکانیں اور اڑھائی کروڑ سے زائد چھوٹے ملازمین کام کرتے ہیں جن کا آ ج کوئی پرسان حال نہیں ہے انہوں نے کہا کہ جنہوں نے اربوں کھربوں قرضے لئے اور شاہ خرچیاں کیں اور جائیدادیں بنائیں لیکن ظلم غریب تاجروں اور عوام پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے اگر حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو عوامی احتجاج کا راستہ روکنا ناممکن ہو جائے گا۔ عوام شدید مشتعل ہوئے تو پھر ایوانوں میں بیٹھے حکمران گلہ نہ کریں کہ خدانخواستہ خانہ جنگی شروع ہو گئی بجلی گھروں کے گھیراو? کا سلسلہ شروع ہو گیا ہم پرامن احتجاج کریں گے اسی لئے حکومتی و انتظامی سطح پر کوئی ایسا اقدام نہ کیا جائے کہ جس کی وجہ سے صورتحال بگڑ جائے۔دریں اثناء مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کی کال پر کینٹ بازار میں ملک عامر اعوان،رحمہ سنٹر میں کاشف رفیق،معصوم شاہ روڈ پر ذیشان ظفر اور جماعت اسلامی کے صفدر ہاشمی،گلشن مارکیٹ میں راؤ لیاقت،پرانی سبزی منڈی میں رانا اویس اور گجر گھڈہ میں رانا عرفان کی قیادت میں تاجروں نے الگ الگ مظاہرے کئے جس میں تاجروں نے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اور پیدا شدہ مہنگائی کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور بجلی کے بل جلا ڈالے