ملتان(بیوروچیف) ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب محمد علی کی جانب سے ملتان سمیت صوبہ بھر میں پراپرٹی ٹیکس کے مقررہ اہداف کو یقینی بنانے کے لیئے تمام ڈویژنل دفاتر کو نادہندگان کی جائیدادوں کی سیلنگ کے نئے طریقہ کار اور مختلف کوڈز متعارف کروادیئے ہیں مزید براں ملتان ڈویژن کے 21 ہزار ٹیکس نادہندگان کے خلاف سیاسی اثر و رسوخ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بلاتفریق کریک ڈاون، پراپرٹی کی سیلنگ اور ایف آئی آر سمیت تمام قانونی اقدامات اٹھانے کے احکامات جاری کردیئے ہیں جن کی روشنی میں ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ملتان ڈویژن افتخار احمد بھلی نے نادہندگان کے خلاف حتمی کاروائی کے لیئے تمام ای ٹی اوز کی سربراہی میں ٹیمیں تشکیل دے کر روزانہ کی بنیاد پر ریکوری اہداف مقرر کردیئے ہیں محکمہ ایکسائز کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ملتان ڈویژن کے 21 ہزار نادہندگان کے ذمہ پراپرٹی ٹیکس کی مد میں 40 کروڑ روپے واجب الاداء ہیں جبکہ ڈسٹرکٹ ملتان میں ساڑھے 13 ہزار نادہندگان کے ذمہ 30 کروڑ روپے واجب الاداء ہیں اس سے قبل محکمہ کی جانب سے تمام  ٹیکس گزاروں کو حتمی نوٹس جاری کیئے جاچکے ہیں جن میں اندرون شہر کالامنڈی، حسین آگاہی، معصوم شاہ روڈ، بوسن روڈ، چوک شہیداں، ابدالی روڈ، نواں شہر، گردیزی مارکیٹ، گلگشت مارکیٹ، ممتاز آباد مارکیٹ، شاہ رکن عالم کالونی، نیو ملتان، کچہری روڈ اور اندرون شہر سرکل روڈ کے نادہندگان شامل ہیں، ڈائریکٹر ایکسائز کی جانب سے بزنس کمیونٹی، کمرشل مارکیٹوں اور پلازوں کے مالکان سمیت لگژری رہائش گاہوں کے مالکان پر ٹیکس ادائیگی کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پراپرٹی ٹیکس سے حاصل ہونیوالی رقم کا 70 فیصد مقامی ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جاتا ہے اپنے شہر اور علاقہ کی ترقی اور بنیادی سہولیات کو یقینی بنانے کے لیئے ایک ذمہ دار شہری کے طور پر واجب الاداء پراپرٹی ٹیکس کی فوری ادائیگی کرکے کسی بھی قانونی مشکلات سے دوچار ہونے سے خود کو محفوظ بنائیں انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب کی ہدایت پر شارٹ ٹوکن ٹیکس اور غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کے خلاف سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے ڈیفالٹر گاڑیوں کو موقع پر ہی لاک کردیا جائے گا جب تک کہ نادہندگان واجب الاداء ٹیکس کی ادائیگی نہ کریں گے گاڑی ریلیز نہیں کی جائے گی انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کی سہہ ماہی کے آخری ماہ میں ٹیکس گزار  کسی بھی مشکل سے دوچار ہونے کی بجائے اپنے ذمہ واجب الاداء ٹیکس کی ادائیگی کو یقینی بنائیں تاکہ جائیدادوں کی سیلنگ و قرقی سمیت گرفتاریوں سے محفوظ رہیں،