ملتان (صفدربخاری سے)  محمد اکرم خان ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ، ایڈیشنل ڈائریکٹر انٹیلیجنس ایف بی آر(ر) نے  ایک ملاقات میں کہا ہے کہ میں پاکستان کے تمام مسائل کاآسان حل بتا تا ھوں۔
تمام سرکاری ملازمین خصو صآ گریڈ 7 سے اوپر انکے لازم قرار دیں کہ وہ سرکاری گھروں،انکے بچے سرکاری تعلیمی اداروں،انکی فیملی سرکاری پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں۔
اسلا۔ی سزائیں نافذ کریں۔1 سال کے اندر کیسز کا فیصلہ ھونا چاہیے۔
7 مرلے سے زائد ذاتی گھر کے مالکان اور 800 cc سے زائد گاڑی کے مالکان جبتک انکم ٹیکس گزار نہ ھوں انھیں استعمال کا حق نہیں ھونا چاہیے۔
شادی بیاہ کے فنکشن گھر یا مساجد میں منعقد ھوں۔
جس گھر کا بجلی بل دس ھزار سے زائد ھو ،جس دوکاندار کی سیل 5 کروڑ سالانہ یا وصولی 1 کروڑ سے زائد ھو،پٹرول کا خرچہ 1 لاکھ سالانہ سے زائد ھو اسکا سالانہ انکم ٹیکس آڈٹ ھونا چاہیے۔
ویلتھ ٹیکس1960 کا قانون دوبارہ نافذ ھونا چاہیے۔ جس شخص کے اثاثے 25 یا 50 لاکھ سے زائد ھوں وہ ویلتھ ٹیکس گزار ھونا چاہیے۔
صرف سرکاری اتھارٹی کو اسکے محکمہ میں غلط کاری یا رشوت ستانی کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے ۔