دالبندین سے علی احمد مینگل کی رپورٹ کے مطابق، بارڈر ٹریڈ سے منسلک زمباد مالکان کاروباری افراد اور علاقائی معتبرین نے گاڑیوں کی پکڑ دھکڑ کے خلاف آر سی ڈی شاہراہ پر واقع ڈگری کالج دالبندین کے مقام پر ٹائر جلا کر ٹریفک جام کر دی، جس کے سبب کوئیٹہ سے تفتان جانے والی گاڑیوں کی دو طرفہ لمبی قطاریں لگ گئیں، مظاہرین سے بارڈر ٹریڈ کمیٹی کے ممبران، حاجی نصیر آحمد سمالانی ،عاصم شیر سنجرانی، سردار بیبرگ خان مینگل بابل بلوچ، سردار عاقل شیرزئی سمیت دیگر نے کہا کہ پاک ایران پاک افغان بارڈر سے دالبندین سمیت ضلع چاغی کے 50 ہزار سے زاہد گھرانوں کا گزر بسر رہتا ہے ،جبکہ پورے رخشان ڈویژن کے تقریبآ 2 لاکھ سے زائد افراد اسی بارڈر ٹریڈ سے منسلک ہیں، چاغی سمیت پورے علاقے میں کوئی کارخانہ یا روزگار کا دوسرا وسیلہ نہیں گذشتہ کئی سالوں سے یہاں کے پرامن لوگ پاک افغان اور پاک ایران بارڈر سے تجارت و روزگار کرکے اپنے بال بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ بارڈر ٹریڈ کو اسمگلنگ کا نام دینا قطعی طور پر غلط ہے، اگر بارڈری روزگار پر پابندی ہوگی تو لاکھوں لوگ نان شبینہ کے محتاج بن جائیں گے .مظاہرین نے اسسٹنٹ کمشنر عبدالباسط بزدار ڈی ایس پی سکندر حیات جمالی اے ڈی سی اسد خان سے مذاکرات کے بعد پہیہ جام ہڑتال موئخر کرکے سڑک کھول دی ۔