رحیم یار خان(میاں طالب حسین) رحیم۔یارخان کا نواحی علاقہ فتع پور پنجابیاں میں افسوس ناک واقعہ راستہ کے تنازعہ پر ڈنڈوں اور سوٹوں سے مسلح 20افراد نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے زبردستی گھر میں داخل ہوکر عمر رسیدہ میاں بیوی اور دو بچوں پر حملہ کردیا‘ بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناکر گھر کا راستہ مسمار کردیا ہیلپ لائن پر کال کرنے پر ایس ایچ او تھانہ اقبال آ باد نے موقع پر حملہ آ وروں کو پکڑنے کی بجائے دھمکیاں دینا شروع کردیں کہ زخمی کیا ہے قتل تو نہیں کیا ایس ایچ او تھانہ اقبال آ باد ملک رشید بھاری رشوت لیکر موقع پر موجود ملزمان کو گرفتار کرنے کی بجائے خاموشی سے چلا گیا‘ اور کارروائی کرنے سے گریزاں‘ اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔ تفصیل کے مطابق گزشتہ روز تھانہ اقبال آباد کی حدود فتح پور پنجابیاں پرانا اڈہ کے علاقہ میں راستے کے تنازعہ کی رنجش پر 20 ڈنڈوں اور سوٹوں سے مسلح بااثر افراد آصف علی‘ محمد زاہد‘ محمد مدثر‘ محمد سمیع اور محمد افضل،ثمران،قاسم، عبدالشکور، ودیگر نقاب پوش 15 نامعلوم ساتھیوں کی مدد سے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے زبردستی گھر میں داخل ہوکر گھر میں موجود عمررسیدہ میاں بیوی 65 سالہ نور محمد‘ 60 سالہ منظوراں بی بی اور انکے دو بچے 25 سالہ راشد علی اور 30 سالہ شادی شدہ بیٹی ثمینہ بی بی پر حملہ کردیا اور انہیں قابو کرکے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناڈالا اور گھر کا راستہ مسمار کر دیا۔ زخمیوں کو میانوالی قریشاں ہسپتال منتقل کردیا زخمیوں کے ورثاء نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے انکے مخالفین سے سازباز کر رکھی ہے جس کے باعث انکے خلاف قانونی کارروائی کرنے سے ٹال مٹول کرتی ہے۔ چند ماہ قبل ملزمان نے زبیرکو بہیمانہ تشدد کیا تھا جس کی تاحال کوئی کارروائی عمل نہ لائی گئی ہے جس پر ملزمان نے انکے گھر میں زبردستی داخل ہوکر حملہ کرکے زیادتی کی ہے۔ مقامی پولیس کو دی جانے والی تحریری شکایت کے باوجود تاحال مقدمہ کا اندراج نا ہو پایا ہے۔ متاثرین نے آر پی او بہاولپور منیر احمد ضیاء راؤ اور ڈی پی او رحیم یار خان اختر فاروق،ڈی ایس پی صدر سرکل سے مطالبہ کیا کہ انکو تحفظ فراہم کیا جائے اور ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔