مردان (شاہ باباحبیب عارف) لیفٹننٹ جنرل سید عاصم منیر کو پاک فوج کے سربراہ مقرر ہونے جبکہ لیفٹننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو چیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں صدرصاحبزادہ مرکزی تنظیم تاجران نیوآڈہ مردان کے صدرصاحبزادہ نے میڈیا کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ایسے ہی میرٹ پر فیصلے ہونے چاہیئے پاک فوج کے نامزد سربراہ جنرل عاصم منیر بہترین پیشہ وارانہ کیریئر کے حامل ہیں انہوں نے اپنے گفتگو میں کہا کہ نامزد سربراہ کور کمانڈ کی، آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ رہے ۔ انہوں نے آفیسرز ٹریننگ سکول سے تربیت مکمل کیئے ۔ پاک فوج کی فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا اور 2014 میں کمانڈر فورس کمانڈ ناردرن ایریا تعینات ہوئے اس کے علاوہ وہ 2017 میں ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس کے عہدے پر فائز ہوئے اور اکتوبر 2018 میں اس کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کیا گیا ۔ جون 2019 میں کور کمانڈر گوجرانوالہ کے عہدے پر تعینات ہوئے اور اکتوبر 2021 سے جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ وہ حافظ قرآن ہیں اور انہیں دوران تربیت اعزازی شمشیر سے بھی نوازا گیا صدر صاحبزادہ نے کہا کہ دوسری جانب چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی ساحر شمشاد بھی ایک قابل اور ذہین آفیسر ہے ۔ یہ شخص یتیم تھے ، یتیم خانے میں جوان ہوئے اور پھر فوج میں چلے گئے اور آج پاکستانی فوج کی دوسری طاقت ور ترین شخصیت کے طور پر ابھر گئے ۔ پاکستانی فوج کے آفیشل ڈاکومنٹس میں ہر آفیسر کے لئے ایک خانہ ہوتا ہے جسمیں لکھا جاتا ہے کہ اس شخص کے شہید ہونے پر اسکی فوجی الاونسز کا مالک یہ شخص ہوگا ، جنرل ساحر شمشاد مرزا نے اس خانے میں ” پاک فوج ” لکھا ہے ، جو کہتے ہیں کہ یتیم ہوتے ہوئے یا غریب ہوتے ہوئے یا کسی وجہ سے پیچھے رہتے ہوئے وہ بس کچھ نہیں کر سکتے ، وہ جنرل ساحر شمشاد سے سیکھے ہم اپنے ان دونوں دل کی گہرائیوں سے مبارک پیش کرتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ ان کی قیادت میں ملک ملت تعمیر وترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگی اوران کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی بدولت پاک فوج مزید طاقتور ہوگی ۔۔