عطاء اللہ تارڑ صاحب! محترمہ عشرت فاطمہ کے بعد پی ٹی وی ملتان بھی انصاف کا منتظر ہے
عطاء اللہ تارڑ صاحب!
محترمہ عشرت فاطمہ کے بعد پی ٹی وی ملتان بھی انصاف کا منتظر ہے
تحریر:ایس پیرزادہ
عطاء اللہ تارڑ صاحب قومی اداروں میں احتساب اور اصلاح کے لیے آپ کے حالیہ اقدام
محترمہ عشرت فاطمہ کو پی ٹی وی میں دوباہ اپنی خدمات کا موقع دینا یقیناً قابلِ تحسین ہے آپ کی جانب سے طاقتور کرداروں کے خلاف عملی قدم اٹھانا اس بات کی علامت ہے کہ شاید اب قومی اداروں میں جواب دہی کا عمل مضبوط ہو رہا ہے اسی امید کے سہارے یہ سوال اٹھانا ناگزیر ہو چکا ہے کہ پی ٹی وی ملتان سینٹر جو پورے جنوبی پنجاب کی نمائندگی کرتا ہے آخر کب آپ کی توجہ کا مرکز بنے گا پی ٹی وی ملتان کسی فرد واحد کسی مخصوص گروہ یا چند بااثر افسران کی جاگیر نہیں بلکہ یہ ایک قومی ادارہ ہے جس سے جنوبی پنجاب کے عوام کی آواز ثقافت اور مسائل جڑے ہوئے ہیں افسوسناک امر یہ ہے کہ اسی ادارے میں ایسے افراد کو اعلیٰ عہدوں پر بٹھایا گیا جن پر سنگین الزامات سزا یافتہ ہونے کرپشن تشدد اور بلیک میلنگ جیسے الزامات موجود رہے یہ سوال اپنی جگہ پوری شدت سے موجود ہے کہ ان تقرریوں کے پیچھے کون تھا اور کن ہاتھوں نے ان کرداروں کو تحفظ فراہم کیا یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب خواتین نے اپنے ساتھ ہونے والی ہراسمنٹ کے خلاف آواز بلند کی تحریری شکایات درج کروائیں اور قانون کے مطابق انصاف مانگا تو انہیں داد دینے کے بجائے انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا کسی کی ملازمت خطرے میں ڈال دی گئی کسی کو ادارے کے اندر دیوار سے لگا دیا گیا اور کسی کے کردار کو مشکوک بنا کر خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا ایسے ماحول میں انصاف کی امید رکھنا بذاتِ خود ایک کٹھن آزمائش بن جاتا ہے پی ٹی وی ملتان میں افسران اور ملازمین کو بلیک میل کرنے والے عناصر مار پیٹ اور تشدد میں ملوث افراد اور مالی بے ضابطگیوں کے مرتکب کرداروں کے خلاف یا تو انکوائریاں ہوئیں ہی نہیں اور اگر ہوئیں تو انہیں منظرِ عام پر آنے سے روک دیا گیا یہ سوال آج بھی جواب مانگتا ہے کہ وہ رپورٹس کہاں گئیں کس نے انہیں دبایا اور کن مفادات کے تحت حقائق کو چھپایا گیا تمام تر ثبوت موجود ہونے کے باوجود ان افراد کا آج بھی بااثر اور بے خوف انداز میں ادارے میں موجود رہنا اس نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے یہ معاملہ محض چند افراد یا ایک کیس تک محدود نہیں بلکہ پورے ادارے کے ماحول خواتین کے وقار اور پیشہ ورانہ تحفظ سے جڑا ہوا ہے کون ہے وہ شخص جو اپکے ادارے میں ان بد عنوان لوگوں کو مینجمنٹ میں بیٹھ کر سپورٹ کر رہا ہے ؟؟ یہ بھی کئی سوالات کو جنم دیتا ہے جہاں شفافیت اور میرٹ کے تقاضے کہیں نظر نہیں آتے اگر فیصلے اس انداز میں ہوں گے تو اداروں پر عوام کا اعتماد کیسے بحال ہو گا بطور صحافی بطور خاتون اور بطور شہری میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر یہ سوال اٹھاتی ہوں کہ اگر جنوبی پنجاب کی نمائندگی کرنے والا ادارہ خود اندر سے ناانصافی اور خوف کی علامت بن جائے تو اس خطے کے عوام کو انصاف کی امید کہاں سے ہو پی ٹی وی ملتان میں کام کرنے والے مرد و خواتین بھی اسی ملک کے شہری ہیں اور وہ بھی عزت تحفظ اور انصاف کے حق دار ہیں عطاء اللہ تارڑ صاحب سے یہ پُرزور مطالبہ ہے کہ جس جرات اور عزم کے ساتھ آپ نے دیگر معاملات میں کرداروں کو بے نقاب کیا ہے اسی سنجیدگی سے پی ٹی وی ملتان سینٹر کے تمام ہراسمنٹ کیسز اور انتظامی بے ضابطگیوں کی شفاف غیر جانبدار اور فوری انکوائری کروائی جائے تمام ذمہ دار کرداروں کو منظرِ عام پر لایا جائے اور انہیں قانون کے مطابق کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے تاکہ قومی اداروں پر عوام کا اعتماد بحال ہو اور جنوبی پنجاب کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ ممکن ہو سکے
یہ صرف ایک مطالبہ نہیں بلکہ ایک امید ہے کہ انصاف واقعی سب کے لیے ہوگا بغیر کسی دباؤ خوف اور مصلحت کے










































Visit Today : 147
Visit Yesterday : 608
This Month : 9570
This Year : 57406
Total Visit : 162394
Hits Today : 5370
Total Hits : 778526
Who's Online : 7






















