بھاری چالان، کمزور نظام — کیا شہری صرف جرمانہ دینے کیلئے رہ گئے ہیں؟

تحریر: کلب عابد خان
03009635323

لاہور کی عدالت میں ای چالان اور ٹریفک کے بھاری جرمانوں کے خلاف درخواست کی حالیہ سماعت نے ایک ایسے مسئلے کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے جو ہر شہری کی روزمرہ زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ جسٹس فاروق حیدر کی عدالت میں زیر سماعت اس کیس میں درخواست گزار جمیلہ فاطمہ کے وکیل نے جو نکات اٹھائے، وہ صرف قانونی بحث نہیں بلکہ عوامی احساسات کی عکاسی بھی ہیں۔ عدالت کی جانب سے حکومت پنجاب اور متعلقہ اداروں کو جواب جمع کرانے کی مہلت دینا اور کیس کو 22 اپریل تک ملتوی کرنا بظاہر ایک معمول کی عدالتی کارروائی ہے، لیکن اس کے پس منظر میں ایک بڑا سوال چھپا ہے: کیا ٹریفک قوانین کا نفاذ انصاف کے اصولوں کے مطابق ہو رہا ہے؟
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بننے والے مقدمات بعض صورتوں میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بن جاتے ہیں۔ یہ ایک سنجیدہ الزام ہے، کیونکہ آئین ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل اور شفاف کارروائی کا حق دیتا ہے۔ اگر جرمانے یکطرفہ ہوں، اگر شہری کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع نہ ملے، تو پھر یہ نظام انصاف سے زیادہ جبر کا تاثر دیتا ہے۔
یہاں سوال صرف لاہور تک محدود نہیں۔ ملتان جیسے بڑے شہر میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ ٹریفک پولیس کی جانب سے صرف تین ماہ کے دوران شہریوں پر 24 کروڑ 91 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔ بظاہر یہ اعداد و شمار قانون کی عملداری کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن جب اسی شہر میں ایک شہری کو ڈرائیونگ لائسنس کا کارڈ حاصل کرنے کیلئے ایک سال تک انتظار کرنا پڑے، تو یہ تضاد کھل کر سامنے آتا ہے۔
ایک طرف شہری سے فوری جرمانہ وصول کیا جاتا ہے، دوسری طرف بنیادی سہولت یعنی لائسنس کی فراہمی میں تاخیر معمول بن چکی ہے۔ چیکنگ کے دوران شہریوں کو مجبوراً اپنے موبائل فون پر آن لائن اسٹیٹس دکھانا پڑتا ہے۔ اب اگر کسی کے پاس انٹرنیٹ نہ ہو، یا نیٹ ورک دستیاب نہ ہو، تو اس کا انجام کیا ہوگا؟ کیا اس کا فیصلہ قانون کرے گا یا موقع پر موجود افسر کی صوابدید؟
یہی وہ نکتہ ہے جہاں نظام پر سوال اٹھتے ہیں۔ قانون کی حکمرانی کا مطلب یہ نہیں کہ شہری کو ہر صورت سزا دی جائے، بلکہ اس کا مقصد ایک منصفانہ، شفاف اور متوازن نظام قائم کرنا ہے۔ اگر سائن بورڈ واضح نہ ہوں، سڑکوں پر لائن مارکنگ نہ ہو، اور عوام کو آگاہی فراہم نہ کی جائے، تو پھر اچانک بھاری جرمانے عائد کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی محسوس ہوتا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا کہ بغیر مناسب آگاہی اور بنیادی سہولیات کے جرمانے عائد کرنا غیر قانونی اقدام ہے۔ یہ بات محض قانونی دلیل نہیں بلکہ ایک زمینی حقیقت ہے۔ ہمارے شہروں میں اکثر ٹریفک سگنلز خراب ہوتے ہیں، سڑکوں کی حالت ناگفتہ بہ ہوتی ہے، اور کہیں ٹریفک کنٹرول کرنے والا عملہ موجود نہیں ہوتا۔ ایسے میں اگر کوئی شہری غلطی کرتا ہے تو اس کی ذمہ داری مکمل طور پر اسی پر ڈال دینا کہاں کا انصاف ہے؟
مزید برآں، بھاری جرمانوں کا نفسیاتی اور معاشی اثر بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک متوسط طبقے کا فرد، جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، جب ہزاروں روپے کا چالان ادا کرتا ہے تو اس کیلئے یہ محض ایک قانونی سزا نہیں بلکہ ایک معاشی دھچکا بھی ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، وہی نظام اگر اصلاحی پہلو کو نظر انداز کر کے صرف مالی جرمانوں پر انحصار کرے تو اس کا مقصد محض ریونیو اکٹھا کرنا محسوس ہوتا ہے، نہ کہ ٹریفک کی بہتری۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض اوقات چالان کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ موقع پر موجود افسر کی مرضی پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل اور شفاف ہو تو ایسی شکایات جنم ہی نہ لیں۔ لیکن جب عملدرآمد میں انسانی مداخلت زیادہ ہو، تو شفافیت متاثر ہوتی ہے اور شہری کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹریفک نظام کو صرف جرمانوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے ایک مکمل اصلاحی ماڈل میں تبدیل کیا جائے۔ سب سے پہلے سڑکوں کی حالت بہتر بنائی جائے، واضح سائن بورڈز نصب کیے جائیں، لائن مارکنگ کو معیاری بنایا جائے، اور شہریوں کیلئے باقاعدہ آگاہی مہم چلائی جائے۔ اس کے بعد اگر کوئی شہری قانون کی خلاف ورزی کرے تو اس پر جرمانہ عائد کرنا نہ صرف جائز ہوگا بلکہ قابل قبول بھی۔
اسی طرح لائسنس کے اجرا کے نظام کو بھی جدید اور مؤثر بنایا جائے تاکہ شہریوں کو بنیادی دستاویز کے حصول کیلئے مہینوں یا سالوں انتظار نہ کرنا پڑے۔ ڈیجیٹل سسٹم کو اس قدر مضبوط بنایا جائے کہ آن لائن اسٹیٹس ہر جگہ قابل قبول ہو اور نیٹ ورک کی عدم دستیابی شہری کیلئے مسئلہ نہ بنے۔
لاہور کی عدالت میں زیر سماعت یہ کیس صرف ایک درخواست نہیں بلکہ ایک موقع ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اپنے نظام کا ازسرنو جائزہ لیں۔ اگر عدالت واقعی بھاری جرمانوں کے حوالے سے کوئی واضح رہنمائی فراہم کرتی ہے، تو یہ نہ صرف لاہور بلکہ پورے پنجاب کیلئے ایک مثال بن سکتی ہے۔
آخر میں سوال وہی ہے: کیا ہم ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں شہری صرف جرمانہ دینے کیلئے موجود ہوں، یا ایک ایسا معاشرہ جہاں قانون انصاف، سہولت اور شفافیت کے ساتھ نافذ ہو؟ فیصلہ ہمارے اداروں کو کرنا ہے، لیکن اس کے اثرات ہر شہری کی زندگی پر مرتب ہوں گے۔