رہائشی علاقوں میں کمرشل یلغار: ملتان کے شہری سکون سے محروم

تحریر: کلب عابد خان
0300-9635323

ملتان کے رہائشی علاقوں میں دفاتر، گودام اور ورکشاپس کے بڑھتے رجحان نے شہری زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے، جہاں پہلے سکون اور خاندانی ماحول ہوتا تھا وہاں اب بھاری گاڑیوں کی آمد و رفت، شور، دھواں اور آلودگی نے رہائشیوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے، ان کمرشل سرگرمیوں کے نتیجے میں بجلی اور گیس کے نظام پر غیر معمولی دباؤ بڑھ گیا ہے، سیوریج اور پانی کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے، پارکنگ کے مسائل نے رہائشیوں کو اذیت میں مبتلا کر دیا ہے، اجنبی افراد کی آمد و رفت بڑھنے سے سیکیورٹی کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے، دفاتر اور ورکشاپس میں دن رات کام کے شور نے بزرگوں، بچوں اور خواتین کے لیے سکون کی فضا کو ختم کر دیا ہے، گوداموں میں مزدوروں اور ٹرک ڈرائیوروں کی موجودگی نے رہائشی علاقوں کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، کم ٹیکس اور کم ٹیرف پر بجلی، گیس اور سیوریج کے استعمال نے کمرشل سرگرمیوں کو مزید فروغ دیا ہے جبکہ رہائشی عوام زیادہ بل ادا کرنے پر مجبور ہیں، یہ دوہرا معیار شہریوں کے ساتھ ناانصافی ہے، ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور میونسپل کارپوریشن جیسے ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، سب جانتے ہیں کہ رہائشی علاقوں میں کمرشل سرگرمیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں لیکن کوئی روک تھام نہیں کی جا رہی، قوانین موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث رہائشی علاقوں کا نقشہ بگڑ رہا ہے، سکول جانے والے بچوں کو ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بزرگ شہری شور اور رش سے اذیت میں ہیں، خاندانی زندگی کا سکون متاثر ہو رہا ہے، سماجی رشتوں میں تناؤ بڑھ رہا ہے، اس صورتحال میں کمشنر ملتان اور ڈپٹی کمشنر ملتان کو فوری طور پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، غیر قانونی دفاتر، گوداموں اور ورکشاپس کے قیام کو روکنا چاہیے، زوننگ قوانین کو فعال بنایا جائے تاکہ رہائشی اور کمرشل علاقوں کی واضح حد بندی ہو، تاکہ بڑھتے گندگی کے مسائل صفائی ستھرائی میں کمی کی بہتری گلیوں کے روڈ گٹر کے ڈھکنوں کا ٹوٹنا حادثات کا باعث بن رہا ہے پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے سیکیورٹی نظام کو بہتر بنایا جائے، پولیس پٹرولنگ اور کمیونٹی واچ پروگرام شروع کیے جائیں، بجلی، پانی اور سیوریج کے نظام کو اپ گریڈ کیا جائے، رہائشیوں کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے تاکہ ان کی آواز سنی جا سکے، ملتان جیسے تاریخی اور ثقافتی شہر کو بچانے کے لیے فوری اور سخت اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ رہائشی علاقوں کا سکون واپس لایا جا سکے اور شہریوں کو وہ سہولیات فراہم کی جا سکیں جو ان کا بنیادی حق ہیں، بصورت دیگر یہ شہر اپنی اصل پہچان کھو دے گا اور رہائشی علاقوں میں زندگی مزید مشکل ہو جائے گی، ریاست اور اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ رہائشی علاقوں کو کمرشل یلغار سے بچائیں اور شہریوں کو سکون، تحفظ اور سہولت فراہم کریں، شہریوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی آواز بلند کریں، کمیونٹی سطح پر اتحاد قائم کریں اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں تاکہ ملتان شہر کو ایک بار پھر رہنے کے قابل بنایا جا سکے۔