کتاب گاڑی ،،، بچوں کو مطالعے سے جوڑنے کا خوبصورت سفر
کتاب گاڑی ،،، بچوں کو مطالعے سے جوڑنے کا خوبصورت سفر
کہتے ہیں کہ کتاب انسان کی بہترین دوست ہوتی ہے، مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں یہ دوستی آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہے، بچوں اور نوجوانوں میں مطالعہ اور کتب بینی کا رجحان خطرناک حد تک کم ہو چکا ہے، جس کے اثرات محض فرد تک محدود نہیں رہے بلکہ پورا معاشرہ اس فکری زوال کی لپیٹ میں آتا جا رہا ہے، آج کا بچہ موبائل اسکرین پر انگلیاں دوڑانے میں ماہر تو ہے، مگر کتاب کے اوراق پلٹنے کی لذت سے ناواقف ہوتا جا رہا ہے، نتیجتاً مطالعے کی عادت ختم ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی سوچنے، سمجھنے اور سوال اٹھانے کی صلاحیت بھی ماند پڑتی جا رہی ہے، کتاب ذہن کو وسعت دیتی ہے جب کہ اسکرین اکثر سوچ کو محدود کر دیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل میں برداشت، مکالمے اور دلیل کی جگہ جذباتیت اور سطحی ردِعمل نے لے لی ہے، کتاب بینی کے فقدان کا سب سے بڑا نقصان زبان و بیان کی کمزوری ہے، جو قوم پڑھنا چھوڑ دے، وہ اظہار کی قوت بھی کھو بیٹھتی ہے، ہمارے تعلیمی اداروں سے نکلنے والے نوجوان ڈگریاں تو حاصل کر لیتے ہیں، مگر خیالات کو مؤثر انداز میں بیان کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں، یہ فکری بانجھ پن آگے چل کر سماجی بے حسی، عدم برداشت اور انتہاپسندی کو جنم دیتا ہے، معاشرتی سطح پر دیکھا جائے تو کتاب اور مطالعہ سے دوری شعور کی کمی کو جنم دیتی ہے، شعور کے بغیر شہری حقوق و فرائض کا ادراک ممکن نہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم ایک ایسے معاشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں سوال کرنا بدتمیزی اور سوچنا بغاوت سمجھا جانے لگا ہے، تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے کتاب کو چھوڑا، انہوں نے ترقی کا راستہ بھی کھو دیا،اس صورتحال کی ذمہ داری صرف بچوں یا نوجوانوں پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ والدین، تعلیمی ادارے اور ریاست سب اس زوال میں برابر کے شریک ہیں، گھروں میں کتابوں کی الماریاں ختم ہو چکی ہیں، سکولوں میں لائبریریاں ویران ہیں اور نصاب محض امتحان پاس کرنے کا ذریعہ بن کر رہ گیا ہے، رہی سہی کسر یہ تاثر پورا کر دیتا ہے کہ کتاب،اخبارات اور میگزین پڑھنا وقت کا زیاںہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ مطالعہ اور کتب بینی کو دوبارہ زندگی کا حصہ بنایا جائے، گھروں میں بچوں کواخبارات اور کہانیوں کی کتابیں دی جائیں، سکولوں میں لائبریری کلچر بحال ہواور ریاست مطالعے کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے، کیونکہ کتاب صرف علم نہیں دیتی، بلکہ انسان بناتی ہے۔ اگر ہم نے آج کتاب سے رشتہ نہ جوڑا تو کل ہماری نسلیں معلومات تو رکھیں گی، مگر دانائی سے محروم ہوں گیاور دانائی کے بغیر کوئی معاشرہ نہ خود کو سنبھال سکتا ہے، نہ اپنے مستقبل کو… اس حوالے سےمحکمہ سکول ایجوکیشن جنوبی پنجاب نے کتاب گاڑی متعارف کرا کر بچوں کو کتاب سے جوڑنے کا خوبصورت سفرشروع کیا ہے، ادارۂ تعلیم و آگہی اور بینک آف پنجاب کے تعاون سے شروع کی گئی کتاب گاڑی ملتان کے مختلف سرکاری سکولوں اور کمیونٹی مقامات پر کامیابی کے ساتھ اپنے تعلیمی وزٹس جاری رکھے ہوئے ہے ۔ اس موبائل لائبریری کا مقصد بچوں میں کتاب دوستی، مطالعے کا شوق اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔ کتاب گاڑی ہفتے میں دو دن سرکاری اسکولوں اور کمیونٹیز کا دورہ کرتی ہے، جہاں پرائمری سطح تک کے بچوں کو چھوٹے چھوٹے گروپس میں تقسیم کر کے ڈیڑھ سے دو گھنٹے پر مشتمل تعلیمی و تفریحی سرگرمیوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ بچوں کو اخلاقی، تربیتی اور معلوماتی کہانیوں پر مشتمل کتابیں فراہم کی جاتی ہیں جن میں بچوں کی دنیا، پودوں اور جانوروں کی حفاظت، پہلی گنتی، غصہ نہ کریں، خالی گھونسلا جیسی کہانیاں شامل ہیں۔ کہانیوں کے مطالعے کے بعد بچوں کے ساتھ گروپ ڈسکشن کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس میں بچوں سے کہانیوں کے اسباق، مختلف کرداروں کے رویّوں اور صبر و برداشت جیسی مثبت عادات پر گفتگو کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں ان کی سوچنے، سمجھنے اور اظہارِ خیال کی صلاحیتوں کو تقویت ملتی ہے۔ مزید برآں، کتاب گاڑی کی سرگرمیوں میں بچوں کے لیے لڈو، کیرم بورڈ، اسکریبل، چارٹ ڈرائنگ اور دیگر تعلیمی کھیل شامل ہیں تاکہ بچے کھیل کھیل میں سیکھ سکیں اور مطالعے سے رغبت پیدا ہو۔ کتاب گاڑی کے خصوصی وزٹس ملتان قلعہ کہنہ قاسم باغ جیسے تاریخی مقامات پر بھی کروائے گئے، جہاں بچوں نے بھرپور دلچسپی سے شرکت کی۔ اگر محکمہ تعلیم سکول ایجوکیشن جنوبی پنجاب کتاب گاڑی کے سفر کا تسلسل جاری رکھے توامید رکھی جاسکتی ہے کہ یہ سفر بچوں کو اسکرین پر بے ثمر مصروفیات سے دور رکھنے اور کتابوں کی طرف راغب کرنے اورمطالعے سے جڑے رہنے کا جذبہ پیداکرنے کا سبب بھی بن سکتا ہے ۔







































Visit Today : 408
Visit Yesterday : 560
This Month : 8698
This Year : 56534
Total Visit : 161522
Hits Today : 12349
Total Hits : 758793
Who's Online : 8






















