ملتان کی ترقی کا وژن: چوہدری ذوالفقار علی انجم کے عملی تجاویز اور میعاری انفراسٹرکچر کی اہمیت

انٹرویو: زین خان ملغانی

ملک کے معروف صنعت کار چوہدری ذوالفقار علی انجم سے میڈیا نے ملتان کے انفراسٹرکچر، اس کی موجودہ صورتحال، بہتری کے ممکنہ اقدامات اور معیاری انفراسٹرکچر کے فوائد کے بارے میں خصوصی مکالمہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے نہ صرف مسائل کی نشاندہی کی بلکہ عملی اور قابلِ عمل تجاویز بھی پیش کیں، جو شہر کی ترقی اور شہری معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔*
ملتان کے انفراسٹرکچر پر ملک کے معروف صنعت کار چوہدری ذوالفقار علی انجم کا خصوصی مکالمہ محض تنقید نہیں بلکہ ایک واضح سمت اور قابلِ عمل تجاویز کا مجموعہ ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی شہر کا انفراسٹرکچر صرف سڑکوں اور عمارتوں کا نام نہیں، بلکہ ٹریفک مینجمنٹ، پیدل چلنے والوں کی سہولت، اسٹریٹ لائٹنگ، تجاوزات کا خاتمہ اور شہری نظم و ضبط اس کے بنیادی ستون ہوتے ہیں۔
چوہدری ذوالفقار علی انجم کہتے ہیں کہ ملتان میں سڑکیں بظاہر کشادہ ہیں، مگر تجاوزات نے ان کی افادیت ختم کر دی ہے۔ دکانوں، ریڑھیوں اور غیر قانونی پارکنگ کی وجہ سے ٹریفک کی روانی مسلسل متاثر رہتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر تجاوزات کے خلاف مستقل اور غیر امتیازی آپریشن کیا جائے تو نئی سڑکیں بنائے بغیر ہی ٹریفک کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہو سکتا ہے۔ اسی طرح شہر کے بڑے چوکوں پر ٹریفک سگنلز اور زیبرا کراسنگ کا نہ ہونا ایک سنگین خامی ہے، جس سے نہ صرف ٹریفک جام ہوتا ہے بلکہ حادثات کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
انہوں نے خاص طور پر بہاولپور بائی پاس چوک کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملتان کا نہایت مصروف چوک ہے، مگر یہاں نہ مناسب سگنلز ہیں اور نہ ہی ٹریفک وارڈنز کی مؤثر موجودگی۔ ان کے مطابق اس چوک کی فوری ری ماڈلنگ ناگزیر ہے، جس میں جدید ٹریفک سگنلز، واضح لین مارکنگ، پیدل افراد کے لیے محفوظ راستے اور مستقل ٹریفک نفاذ شامل ہونا چاہیے۔
چوہدری ذوالفقار علی انجم کا کہنا ہے کہ کالونیوں اور محلوں میں اسٹریٹ لائٹس کا نہ ہونا شہری زندگی کے معیار پر سوالیہ نشان ہے۔ اندھیری گلیاں نہ صرف جرائم کو دعوت دیتی ہیں بلکہ خواتین، بزرگوں اور بچوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بنتی ہیں۔ مزید یہ کہ پیدل چلنے والوں کے لیے فٹ پاتھ تقریباً ناپید ہو چکے ہیں، جو کسی بھی مہذب شہر کے تصور کے منافی ہے۔
ملتان شہر میں ہزاروں کی تعداد میں فروٹ اور سبزی فروشوں کی ریڑھیاں موجود ہیں، جو روزگار کے ایک اہم ذریعے کے طور پر کام کر رہی ہیں، مگر ان کا سڑکوں پر بے ہنگم انداز میں کاروبار شہری زندگی کے لیے ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اہم شاہراہوں اور مصروف سڑکوں پر ریڑھیوں کی موجودگی کے باعث نہ صرف ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوتی ہے بلکہ ایمرجنسی گاڑیوں اور ایمبولینسز کو بروقت گزرنے میں بھی شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو براہِ راست انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہے۔
یہ مسئلہ محض تجاوزات کا نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے فقدان کا عکاس ہے۔ ریڑھی بان شہری معیشت کا حصہ ہیں، انہیں یکسر ہٹانا نہ ممکن ہے اور نہ ہی منصفانہ، مگر انہیں سڑکوں پر چھوڑ دینا بھی شہری نظم کے خلاف ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامیہ اور حکومت فوری طور پر باقاعدہ وینڈنگ زونز قائم کریں، جہاں فروٹ اور سبزی فروشوں کو مناسب، محفوظ اور قانونی جگہ میسر ہو۔ ان زونز میں صفائی، روشنی، پانی اور ٹریفک سے علیحدہ داخلی و خارجی راستے ہونا چاہئیں۔
اس کے ساتھ ساتھ نو وینڈنگ ایریاز کا واضح تعین کیا جائے، خصوصاً اسپتالوں، ایمرجنسی روٹس، چوکوں اور مرکزی شاہراہوں پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔ اگر ریڑھی بانوں کی رجسٹریشن، شناخت اور مخصوص اوقات کار مقرر کر دیے جائیں تو نہ صرف ٹریفک کے مسائل کم ہوں گے بلکہ ان کے روزگار کا تحفظ بھی ممکن ہو سکے گا۔
شہر کی خوبصورتی، ٹریفک کی روانی اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے لازم ہے کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ فوری، متوازن اور مستقل پالیسی اپنائیں، تاکہ ملتان ایک منظم شہر کی صورت اختیار کر سکے جہاں روزگار بھی محفوظ ہو اور سڑکیں بھی۔
آخر میں وہ تجویز دیتے ہیں کہ ملتان کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے شہری حکومت، ٹریفک پولیس اور متعلقہ اداروں کو ایک جامع اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے تحت کام کرنا ہوگا۔ صرف وقتی اقدامات یا نمائشی منصوبے شہر کے مسائل حل نہیں کر سکتے۔ اگر تجاوزات کا خاتمہ، ٹریفک نظم، اسٹریٹ لائٹس کی بحالی اور فٹ پاتھوں کا تحفظ سنجیدگی سے کر لیا جائے تو ملتان نہ صرف ایک تاریخی شہر بلکہ ایک منظم اور قابلِ فخر جدید شہر بن سکتا ہے۔
میعاری انفراسٹرکچر کی فراہمی کسی ایک فریق کی نہیں بلکہ حکومت، انتظامیہ اور عوام تینوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، تاہم بنیادی اور قانونی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ عوام کو سڑکوں، پانی، سیوریج، بجلی، صحت، تعلیم اور ٹرانسپورٹ جیسے بنیادی ڈھانچے کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے مؤثر پالیسیاں تشکیل دے، مناسب بجٹ مختص کرے اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے واضح معیار مقرر کرے۔ ان پالیسیوں پر عملی اور شفاف عملدرآمد کی ذمہ داری انتظامیہ پر ہوتی ہے، جو منصوبوں کی بروقت تکمیل، تعمیراتی معیار کی نگرانی، بدعنوانی کے خاتمے اور عوامی شکایات کے ازالے کی پابند ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ سرکاری املاک کا تحفظ کریں، ٹیکس ادا کریں، تجاوزات سے گریز کریں اور ناقص کارکردگی پر آواز بلند کریں۔ درحقیقت میعاری انفراسٹرکچر حکومت کی منصوبہ بندی، انتظامیہ کی دیانت دارانہ عملداری اور عوام کے شعور و تعاون سے ہی ممکن ہے، ورنہ اس کی کمی کا خمیازہ بالآخر پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔
اب ہم بات کرتے ہیں میعاری انفراسٹرکچر کے فوائد کی،
معیاری انفراسٹرکچر کسی بھی ملک کی معاشی، سماجی اور صنعتی ترقی کی بنیاد ہوتا ہے۔ سڑکیں، پل، بجلی، پانی، سیوریج، ٹرانسپورٹ، ٹیلی کمیونیکیشن اور شہری سہولیات اگر بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوں تو نہ صرف عوامی زندگی میں آسانی پیدا ہوتی ہے بلکہ قومی معیشت کو بھی استحکام حاصل ہوتا ہے۔
سب سے بڑا فائدہ معاشی ترقی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ عالمی بینک (World Bank) کے مطابق معیاری انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری سے کاروباری لاگت کم ہوتی ہے، صنعت کو فروغ ملتا ہے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ بہتر سڑکیں اور ٹرانسپورٹ سسٹم اشیاء کی بروقت ترسیل ممکن بناتے ہیں، جس سے تجارت اور برآمدات میں اضافہ ہوتا ہے۔
صنعت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں بھی معیاری انفراسٹرکچر کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کی ایک رپورٹ کے مطابق وہ ممالک جہاں بجلی، گیس، پانی اور لاجسٹکس کا نظام مضبوط ہو، وہاں غیر ملکی سرمایہ کاری زیادہ آتی ہے کیونکہ سرمایہ کار پائیدار اور قابلِ اعتماد سہولیات کو ترجیح دیتے ہیں۔
معیاری انفراسٹرکچر کے نتیجے میں عوامی معیارِ زندگی بہتر ہوتا ہے۔ صاف پانی، موثر سیوریج نظام، معیاری سڑکیں اور محفوظ ٹرانسپورٹ شہریوں کو صحت مند ماحول فراہم کرتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق ناقص سیوریج اور پانی کا نظام بیماریوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے، جبکہ بہتر انفراسٹرکچر صحت کے اخراجات کم کرتا ہے۔
تعلیم اور صحت کے شعبوں پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بہتر سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کی بدولت طلبہ اور اساتذہ کو تعلیمی اداروں تک رسائی آسان ہوتی ہے، جبکہ جدید اسپتال اور طبی سہولیات بروقت علاج کو یقینی بناتی ہیں۔ یونیسکو (UNESCO) کے مطابق انفراسٹرکچر کی بہتری تعلیمی کارکردگی میں نمایاں اضافہ کرتی ہے۔
معیاری انفراسٹرکچر قومی استحکام اور پائیدار ترقی کی ضمانت بنتا ہے۔ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) میں بھی مضبوط اور پائیدار انفراسٹرکچر کو ترقی کی بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔
مختصراً، معیاری انفراسٹرکچر صرف اینٹ اور سیمنٹ کا نام نہیں بلکہ یہ ایک خوشحال معیشت، صحت مند معاشرہ اور مضبوط ریاست کی بنیاد ہے۔ جو قومیں انفراسٹرکچر کو ترجیح دیتی ہیں، وہی ترقی کی دوڑ میں آگے نکلتی ہیں۔