صوبائی محتسب اور وفاقی محتسب
صوبائی محتسب اور وفاقی محتسب
تحریر: ملک غضنفر
پاکستان میں عام شہری کا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ اس کے حقوق موجود نہیں، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ ان حقوق کے حصول کے لیے درکار دروازے اکثر بند، راستے پیچیدہ اور نظام بے رحم نظر آتا ہے۔ سرکاری دفاتر، محکمے اور افسر شاہی جب اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریوں سے غفلت برتیں تو ایک عام آدمی خود کو بے بس محسوس کرتا ہے۔ ایسے میں وفاقی محتسب اور صوبائی محتسب جیسے ادارے امید کی ایک کرن بن کر سامنے آتے ہیں، جن کا مقصد شہریوں کو بغیر کسی مہنگے عدالتی عمل کے فوری انصاف فراہم کرنا ہے۔
محتسب کا ادارہ دراصل انتظامی ناانصافی کے خلاف ایک حفاظتی دیوار ہے۔ یہ وہ فورم ہے جہاں ایک عام شہری کسی سرکاری افسر یا محکمے کی بدانتظامی، تاخیر، اختیارات کے ناجائز استعمال یا بے جا ہراسانی کے خلاف آواز بلند کر سکتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج بھی بہت سے لوگ محتسب کے کردار، اختیارات اور افادیت سے مکمل طور پر آگاہ نہیں، جس کے باعث وہ برسوں عدالتوں کے چکر لگاتے رہتے ہیں، حالانکہ ان کا مسئلہ چند ماہ میں محتسب کے ذریعے حل ہو سکتا ہے۔
وفاقی محتسب کا دائرہ اختیار ان تمام وفاقی اداروں تک پھیلا ہوا ہے جو براہِ راست وفاقی حکومت کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ اس میں نادرا، پاسپورٹ آفس، ایف بی آر، واپڈا، پی ٹی اے، پی آئی اے، ریلوے، اور دیگر وفاقی محکمے شامل ہیں۔ اگر کوئی وفاقی ادارہ کسی شہری کے ساتھ ناانصافی کرے، درخواست کو بلاوجہ لٹکائے رکھے یا اختیارات سے تجاوز کرے تو متاثرہ شہری وفاقی محتسب سے رجوع کر سکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہاں نہ تو فیس ہوتی ہے، نہ وکیل کی شرط، اور نہ ہی پیچیدہ عدالتی زبان۔
اس کے برعکس صوبائی محتسب صوبائی حکومت کے ماتحت اداروں کی نگرانی کرتا ہے۔ پولیس، ریونیو، بلدیات، صحت، تعلیم، کینٹونمنٹ سے ہٹ کر صوبائی محکمے، ترقیاتی اتھارٹیز اور دیگر صوبائی ادارے اس کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں صوبائی محتسب کے دفاتر قائم ہیں جہاں شہری براہِ راست یا آن لائن شکایت درج کروا سکتے ہیں۔
صوبائی محتسب کا کردار اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب بات پولیس کے رویے، ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر، ریونیو ریکارڈ میں رد و بدل، یا بلدیاتی اداروں کی غفلت کی ہو۔ عام طور پر یہ وہ شعبے ہیں جہاں شہری سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے اور اسے سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ محتسب ان معاملات میں نہ صرف متعلقہ افسر سے جواب طلب کرتا ہے بلکہ قانونی حدود میں رہتے ہوئے اصلاحی احکامات بھی جاری کرتا ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ محتسب کا ادارہ عدالتوں پر بوجھ کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر انتظامی شکایات بروقت محتسب کے ذریعے حل ہو جائیں تو ہزاروں مقدمات عدالتوں تک پہنچنے سے پہلے ہی نمٹائے جا سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے بعض محکمے محتسب کے احکامات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، جو کہ خود ایک انتظامی بدانتظامی ہے اور اس رویے پر سختی سے قابو پانے کی ضرورت ہے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ محتسب کا ادارہ سزا دینے سے زیادہ اصلاح پر یقین رکھتا ہے۔ اس کا مقصد کسی افسر کو ذلیل کرنا نہیں بلکہ نظام کو درست سمت میں لانا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محتسب کے فیصلے اکثر انتظامی بہتری، ریکارڈ کی درستگی اور شہری کے حق میں فوری ریلیف پر مبنی ہوتے ہیں۔
آج کے دور میں جب ڈیجیٹل سہولیات عام ہو رہی ہیں، وفاقی اور صوبائی محتسب کے دفاتر نے بھی آن لائن شکایات، ٹریکنگ سسٹم اور ای میل رابطے متعارف کرا دیے ہیں۔ یہ اقدام خاص طور پر اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک بڑی سہولت ہے، جو پاکستان میں موجود نہ ہونے کے باوجود اپنے مسائل کے حل کے لیے محتسب سے رجوع کر سکتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام میں محتسب کے کردار سے متعلق شعور اجاگر کیا جائے۔ تعلیمی اداروں، میڈیا اور سول سوسائٹی کو چاہیے کہ وہ اس فورم کے بارے میں معلومات عام کریں تاکہ لوگ جان سکیں کہ انصاف کے حصول کے لیے ہر بار عدالت جانا ہی واحد راستہ نہیں۔ اگر شہری اپنے حقوق سے واقف ہو جائے تو کوئی بھی ادارہ اسے آسانی سے نظر انداز نہیں کر سکتا۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ وفاقی محتسب اور صوبائی محتسب جیسے ادارے ریاست اور شہری کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ پل جتنا مضبوط ہوگا، نظام اتنا ہی شفاف اور عوام دوست ہوگا۔ وفاقی اور صوبائی محتسب ملتان جیسے ادارے عام شہریوں بالخصوص سرکاری اداروں کی بے حسی اور بددیانتی کے شکار شہریوں کیلئے نعمت سے کم نہیں اگر ان اداروں کو مزید خودمختاری، وسائل اور احترام دیا جائے تو یہ پاکستان میں گڈ گورننس کے قیام میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انصاف کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ وہ عام آدمی کی دہلیز تک پہنچے، اور اس حوالہ سے صوبائی محتسب کی موبائل سروس کا آغاز انتہائی قابل ستائش کاوش ہے صوبائی محتسب کا ادارہ اسی تصور کی عملی شکل ہے۔








































Visit Today : 410
Visit Yesterday : 560
This Month : 8700
This Year : 56536
Total Visit : 161524
Hits Today : 12487
Total Hits : 758931
Who's Online : 4






















