ملتان :معروف شاعر دانشور اور ماہر قانون وسیم ممتاز نے کہا ہے کہ ڈاکٹر نمیرہ امین کی شاعری قاری کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ ان کی شاعری میں عصری شعور بھی ہے اور محبت کے مضامین بھی، شاعرہ نے اس کتاب میں کہیں بھی اپنا تخلص استعمال نہیں کیا اور ایک طرح سے یہ نیا تجربہ ہے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے اکادمی ادبیات ملتان ریجن کے زیرِ اہتما م گرد و پیش پبلیکیشنز کےاشتراک سے ڈاکٹر نمیرہ امین کے دوسرے شعری مجموعے ’’ دریچے سے جھانکتا منظر ‘‘کی تعارفی تقریب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کیا ۔تقریب کی مہمان خصوصی شعبہ اردو زکریا یونیورسٹی کی سربراہ ڈاکٹر فرزانہ کوکب ، مہمان اعزاز نمیرہ امین کے والد نام ور شاعر ، ماہرِ تعلیم اور دانش ور ڈاکٹر محمد امین اور سٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان ملتان جعفر بلوچ تھے ۔ نامور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر فرزانہ کوکب نے کہا کہ شاعرہ نے دریچے کو محض مشاہدے کا استعارہ نہیں بنایا بلکہ اسے شعور اور لاشعور کے درمیان ایک تخلیقی رابطہ بنا دیا ہے اس موقع پر ڈاکٹر خان محمد ساجد ، شاہد راحیل خان ،رضی الدین رضی ، جاوید یاد ، میمونہ امین ، شہزاد عمران خان اور ظہیر عباس بھٹی نے بھی خطاب کیا ۔ اکادمی ادبیات ریجنل آفس ملتان کے ناظم اعزازی اظہر سلیم مجوکہ نے کہا ڈاکٹر نمیرہ ہمارے عہد کی آواز ہیں ، شاہدراحیل خان اور ڈاکٹر خان محمد ساجد نے کہا یہ کتاب نسائی ادب میں خوبصورت اضافہ ہے ۔ معروف شاعر اور دانش ور رضی الدین رضی نے کہا یہ شاعری ایک طرح سے پنجرے میں قید عورت کی آواز ہے ۔ تقریب میں ادیبوں ، شاعروں ، ماہرین تعلیم سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔