مولانا فضل الرحمٰن کادو روزہ دورہ رحیم یارخان

( رپورٹ )
زاہد مقصوداحمد قریشی

گلشن حافظ الحدیث حضرت مولانا عبداللہ درخواستی رحمۃ اللّٰہ جامعہ مخزن العلوم خانپور کی تقریب دستار بندی کاسالانہ عظیم الشان اجتماع 26دسمبر بروز جمعہ منعقد ہوا پہلی نشست میں جامعہ کے ہونہار طلبہ کرام نے اظہارِ خیال کیا اور عربی اردوانگلش میں تقاریر کی گئیں جامعہ کی مفصل کارکردگی پیش کی گئی جامعہ کے اساتذہ کے بیانات ہوے خطیب ابن خطیب حضرت مولانا محمد امجد خان صاحب ڈپٹی جنرل سیکریٹری جمعیت علماء اسلام پاکستان اور مولانا امیر حمزہ کابیان ہوااس کے بعد جامع مسجد میں خطبہ جمعہ قائدِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے اِرشاد فرمایا اور نمازجمعہ کی امامت اور دعاء کرائی اس کے بعد پروگرام کی دوسری نشست وسیع و عریض گراؤنڈ میں شروع ہوئی قاری محمد شعیب نے تلاوت اور جامعہ کے ہونہار طالب علم نے نعتیہ کلام بحضور سرور کونین صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ واصحابہ وبارک وسلم پیش کرنے کی سعادت حاصل کی جامعہ امدادیہ حبیب المدارس یاکیوالی کے مہتمم مولانا پروفیسر محمد مکی صاحب کے بیان کے بعد خطیب دلنشین مولانا کلیم احمد لدھیانوی نے قائدِ جمعیت کو سپاس نامہ اور خراج تحسین پیش کیا اور اس کے بعد میزبان مکرم جانشین حافظ الحدیث سرپرست جمعیت علماء اسلام پنجاب حضرت مولانا فضل الرحمٰن درخواستی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور سلاسل اربعہ میں اجازت دیتے ہوئے قائد محترم کو عربی جبہ پہنایا پھر فرمایا کہ ہمارے قائد اسلاف کی روایات کے امین اور اپنے پیشرو حضرت لاہوری اور حضرت درخواستی کے حقیقی جانشین ہیں جابر اور ظالم حکمرانوں کے مقابلے میں سیسہ پلائی دیوار ہیں اور ہر مشکل گھڑی میں ہمیشہ کلمہ حق بلند کرتے ہیں ہماری جانیں بھی قائد محترم پر قربان ہوں پھر انہوں نے قائد جمعیت کو خوبصورت انداز میں خطاب کی دعوت دی ۔قائدملت اسلامیہ جانشین مفکر اسلام حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے مفصل علمی فکری اور نظریاتی بیان فرمایا خاندان حضرت درخواستی، خانقاہ دین پور شریف ،تحفظ ختم نبوت کاذکرخیرفرمایاقائد جمعیت نے اپنے بیان کے دوران فرمایا کہ حکومت نے دینی مراکز کے حوالے سے ہمارے ساتھ جو معاملات طے کیے تھے اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے ہم چاہتے ہیں کہ طے شدہ معاملات پر عملدرآمد کیا جاے اگر وہ اکڑ دکھائیں گے تو ہم بھی اکڑیں گے ،نفرت کی سیاست ختم ہونی چاہیے سیاست اورپارلیمنٹ میں آئین اور اسلامی اقدار کی پاسداری ہونی چاہیے ۔حکومت سرکاری ادارے چلانے میں ناکام ہورہی ہے قومی اثاثوں کو فروخت کیا جارہا ہے پی آئ اے کو اونے پونے داموں فروخت کردیا گیا ہے اور یہ دینی مدارس پر کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔حکومتیں خود انتہا پسندی کے راستے ہموار کرتی ہے ۔ہمارا واضح موقف ہے کہ دینی مدارس میں انتہا پسندی نہیں ہوتی اور نہ ہی ملک دشمنی اور فرقہ واریت کی تعلیم دی جاتی ہے ۔دینی مدارس تو اسلام کی بنیاد اور معاشرتی اصلاح کا ذریعہ ہیں۔ ہم پر زبردستی کی حکومتیں مسلط کی جاتی ہیں زبردستی کی حکومتیں جائز نہیں ہیں ظالم جابر وڈیروں کو عوام اب ووٹ مت دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انہوں نے یہ شعر بھی پڑھا میں یونہی دست وگریباں نہیں زمانے سے۔میں جس جگہ پہ کھڑا ہوں کسی دلیل سے ہوں۔

قائد محترم نےحضرت درخواستی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور درس حدیث بھی ارشاد فرمایا آخر میں تقوی و اعتصام بالسنہ کی شرط پر سند حدیث کی اجازت بھی مرحمت فرمائی اس پروقار علمی و روحانی پروگرام میں مولانا جمیل الرحمٰن درخواستی ، مولانا خلیل الرحمٰن درخواستی مولانا عزیز الرحمن درخواستی ،حافظ نصیر احمد احرار،مولاناعبدالروف ربانی،
،مولانااحمدالرحمن درخواستی
مولانا عنایت الرحمن درخواستی حافظ سعید مصطفی چدھڑ
مولانا عامرفاروق عباسی ،مولاناعبدالوحید درخواستی مولانا پیر کفایت اللہ درخواستی،مولاناعثمان لدھیانوی کے علاؤہ جمعیت علماء اسلام پنجاب وضلع رحیم یارخان کے صوبائی ضلعی قائدین اور اکابر علماء وطلباءکرام کے ساتھ ساتھ عوام الناس نےہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔قائدجمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے رات کاقیام بھی جامعہ مخزن العلوم میں کیا تھا اور صبح کے پرنورلمحات میں یہ ایمان افروزخوشخبری بھی سنائی کہ رات مجھے آقاے نامدار خاتم النبیین جناب نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ واصحابہ وبارک وسلم کی خواب میں زیارت باسعادت نصیب ہوی اور فرمایا کہ یہ اسی مبارک ادارے کے انوار وبرکات ہیں جو اللہ رب العزت نے حضور اکرم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ واصحابہ وبارک وسلم کی زیارت کی صورت میں عطاء فرمائے ۔قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے ضلع رحیم یار خان کے اپنے دو روزہ دورے میں سب سے پہلا پڑاؤ بھونگ شریف میں کیا جہاں رئیس ابراہیم اندھڑ نے شرف میزبانی حاصل کیا۔رحیم یار خان میں ریشم سیڈ۔جامعہ اسلامیہ ختم نبوت۔جامعہ رحیمیہ ترتیل القرآن مرکزی عیدگاہ۔جامعہ تفسیر یہ شمس العلوم۔جامعہ اسلامیہ اور دارالعلوم عثمانیہ کے دورے کیے اور جماعتی بزرگوں اور احباب کی دل جوئی کاسبب بنے۔خانپورمیں گلشن درخواستی رحمۃ اللّٰہ علیہ جامعہ مخزن العلوم میں رات کا قیام اور پھر خطبہ جمعہ ارشاد فرمانے کے بعد درس تکمیل بخآری شریف میں کی جانے والی گفتگو نے ہر خاص و عام پر اپنے گہرے جادوبھرے روحانی اثرات مرتب کئے۔مرکز رشد وہدایت دین پور شریف میں حضرت میاں مسعوداحمدسائیں سے ملاقات اور اکابرین کی قبور پر حاضری کے بعدظاہرپیر میں مفسر قرآن حضرت مولانا منظور احمد نعمانی کی عیادت کی وہاں سے سابق ضلعی امیر مولانا مشتاق احمد رحمانی کے ادارہ میں آنے مرحوم بیٹے کی تعزیت کی پھر رات گئے تحصیل لیاقت پور کے نواحی علاقے ٹھل حمزہ میں واقع مدرس حرم حضرت مولانا محمد مکی الحجازی کے مرکز جامعہ خیرالعلوم مکیہ میں بھی تشریف لے گئے ۔