​​ملتان : ملتان کی معروف دینی درسگاہ جامعہ سعیدیہ حسان بن ثابت، محلہ پیر بخاری کالونی مین سوئی گیس روڈ قاسم پور میں بیسواں سالانہ عظیم الشان “جلسہ دستارِ فضیلت و معراج النبی ﷺ” منعقد ہوا۔ اس پروقار تقریب کی صدارت جماعت اہل سنت پاکستان کے مرکزی امیر علامہ پروفیسر سید مظہر سعید شاہ کاظمی نے کی۔جبکہ درگاہ عالیہ مرشدآباد شریف لاہور کے سجادہ نشین معروف روحانی پیشوا پیرخواجہ محمد خالد محمود احمد نقشبندی،صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی،علامہ ڈاکٹرغلام عباس، میاں جمیل احمد، میاں حاجی آصف،مرزا حاجی عبدالرشید، صوفی محمد خلیل معصومی، صوفی مرزا افضال حسین الطافی، قاری حق نواز سعیدی، قاری اسماعیل سعیدی، قاری محمد حسنین، قاری دین محمد سمیت دیگر ممتاز شخصیات نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔تقریب کی نگرانی جامعہ ہذاکے مہتتم اعلی علامہ قاری رب نواز سعیدی نے کی۔ سالانہ ​جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اہل سنت پاکستان کے مرکزی امیر علامہ سید مظہر سعید شاہ کاظمی،شیخ الحدیث علامہ سید ارشد سعید شاہ کاظمی اور علامہ سید احسن سعید شاہ کاظمی نے اپنے اپنے خطاب میں کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اور ناموسِ رسالت ﷺ کا تحفظ ہمارے ایمان کی اساس ہے اور اہل سنت ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے پاکستان اس وقت شدید اندرونی و بیرونی چیلنجز کا شکار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک میں معاشی بحران، بے چینی اور اخلاقی پستی کا واحد علاج نظامِ مصطفیٰ ﷺ کا عملی نفاذ ہے۔ مقررین نے کہا کہ واقعہ معراج رحمت دوعالم کا رہتی دنیا تک زندہ معجزہ ہے اور انسانیت کو اللہ کے قریب کرنے بندگی کا شعور بیدار کرنے کا ذریعہ ہے۔ علامہ مفتی محمد احمد رضا عظمیٰ اور جماعت اہل سنت صوبہ پنجاب کے ناظم اطلاعات صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی نے اپنے خطاب میں کہا کہ میلاداور معراج اہل سنت کے حصہ میں آۓ نبی کریم کی محبت ایمان کی جان اور روح ہے ہماری نجات اسوہ کامل پر عمل پیراہوکرحیات مستعار کے لمحات بسرکرنے میں ہے انہوں نےجامعہ سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء کو مبارکباد دیتے ہوئے انہیں معاشرے کی اصلاح کے لیے میدانِ عمل میں نکلنے کی خصوصی تلقین کی۔ ​تقریب کے آخری مرحلے میں جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے والے قراء، حفاظ اور علماء کی دستار بندی کی گئی اور نمایاں تعلیمی کارکردگی دکھانے والے طلباء میں حسن کارکردگی ایوارڈز اور اسناد تقسیم کی گئیں۔ اختتامی نشست میں ملکِ پاکستان کی ترقی و سلامتی، افواجِ پاکستان کی کامیابی، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور بالخصوص غزہ، فلسطین اور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی نصرت کے لیے رقت آمیز دعا کی گئی۔ پروگرام کے اختتام پر شرکاء کے لیے وسیع لنگرِ عام کا اہتمام کیا گیا تھا۔