ملتان(بیورورپورٹ)  پیپلزپارٹی کے گڑھ سمجھے جانے والے شہر ملتان سے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر اس سال کوئی بھی باقاعدہ قافلہ گڑھی خدا بخش روانہ نہ ہو سکا، جس کے باعث 46 برس سے جاری روایت ٹوٹ گئی۔ تاہم چند رہنما اور کارکن انفرادی طور پر برسی میں شرکت کے لیے گڑھی خدا بخش پہنچے۔ تفصیلات کے مطابق ملتان کو ہمیشہ سے پیپلزپارٹی کا مضبوط سیاسی مرکز تصور کیا جاتا رہا ہے۔ حالیہ عام انتخابات میں بھی پیپلزپارٹی نے ملتان سے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، جہاں قومی اسمبلی کی تین نشستوں پر سید عبدالقادر گیلانی، سید علی موسیٰ گیلانی اور سید علی قاسم گیلانی جبکہ صوبائی اسمبلی کی تین نشستوں پر سید علی حیدر گیلانی، واصف مظہر راں اور رانا قبال سراج منتخب ہوئے۔ اس کے علاوہ سابق وزیراعظم اور چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی اور سینیٹر رانا محمود الحسن کا تعلق بھی ملتان سے ہے۔ ماضی میں پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کی قیادت، جن میں سینئر نائب صدر خواجہ رضوان عالم، ڈویژنل صدر خالد حنیف لودھی، ضلعی صدر کامران عبداللہ مڑل، ضلعی جنرل سیکرٹری راؤ ساجد، سٹی صدر ملک نسیم لابر اور سٹی جنرل سیکرٹری اے ڈی بلوچ شامل ہیں، ہر سال شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر ٹرین یا بسوں کے ذریعے جیالوں کے قافلے گڑھی خدا بخش روانہ کرنے کے انتظامات کرتی رہی ہے۔ تاہم اس سال شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر پارٹی کی کسی بھی سطح پر گڑھی خدا بخش جانے کے لیے کوئی اجتماعی انتظام نہ کیا جا سکا، جس کے نتیجے میں دہائیوں سے جاری یہ سلسلہ منقطع ہو گیا اور ملتان سے ایک بھی قافلہ روانہ نہ ہو سکا۔ مزید برآں، ملتان شہر میں بھی برسی کے حوالے سے پارٹی قیادت یا منتخب اراکین اسمبلی کی جانب سے کسی مرکزی تقریب کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ البتہ چند رہنماؤں اور کارکنوں نے انفرادی طور پر دعائیہ تقریبات منعقد کیں۔ اس صورتحال پر جیالوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے نام پر ووٹ لے کر منتخب ہونے والے نمائندوں اور پارٹی عہدے داروں کو چاہیے تھا کہ وہ برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش جانے کے لیے قافلوں کا بندوبست کرتے اور ملتان میں ایک مرکزی تقریب بھی منعقد کی جاتی، تاکہ قائدِ عوام کی بیٹی کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکتا۔ جیالوں کے مطابق اس روایت کا ٹوٹنا پارٹی کارکنوں کے لیے مایوس کن ہے اور قیادت کو اس پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے آئندہ ایسے مواقع پر کارکنوں کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے۔