کیا ملتان ٹی ہاؤس بھی پی ٹی وی کی طرح ہراسمنٹ کا گڑھ بن چکا ہے
کیا ملتان ٹی ہاؤس بھی پی ٹی وی کی طرح ہراسمنٹ کا گڑھ بن چکا ہے
تحریر: ایس پیرزادہ
کچھ عرصہ پہلے میں ملتان ٹی ہاؤس کے نئے کیئر ٹیکر فیاض عوان صاحب کو مبارکباد
دینے گئی وہاں انہوں نے میرا استقبال کیا چائے اور بسکٹ سے تواضع کی بات چیت کے دوران میں نے ان سے ٹی ہاؤس کی ممبرشپ کے بارے میں پوچھا انہوں نے خوش دلی سے کہا کہ آپ جیسی کالم نگار کو ٹی ہاؤس کا رکن بننا چاہیے اگر آپ کو نہیں بنائیں گے تو پھر کس کو بنائیں گے
انہوں نے مجھے ممبرشپ فارم دیا شرائط بتائیں میں نے فارم پُر کر کے انہیں جمع کرا دیا یقین دہانی کروائی گئی کہ چند دنوں میں ممبرشپ کارڈ بن جائے گا کچھ عرصے بعد جب میں خود ملتان ٹی ہاؤس گئی اور رکنیت کے بارے میں پوچھا تو موصوف کا رویہ یکسر بدل چکا تھا کہا گیا کہ آپ ممبرشپ کے معیار پر پورا نہیں اترتیں اس لیے آپ کو ممبر نہیں بنایا جا سکتا میں نے دریافت کیا کہ وہ معیار کیا ہے اس کی تفصیل بتائی جائے اور یہ بھی کہ جب میں فارم لینے اور جمع کروانے آئی تھی تو کیا اس وقت انہیں علم نہیں تھا کہ میں کون ہوں اور معیار پر پورا اترتی ہوں یا نہیں اس سوال پر انہوں نے سخت لہجہ اختیار کر لیا گویا وہ کسی سرکاری ادارے کے کیئر ٹیکر نہیں بلکہ کسی ذاتی بیٹھک کے
مالک ہوں دو ٹوک انداز میں کہا کہ جو کہہ دیا ہے وہی حتمی ہے ممبرشپ نہیں مل سکتی جائیں جو کرنا ہے کر لیں
بعد ازاں میں نے ان کے بدلے ہوئے رویے اور اس پورے معاملے پر خاموشی سے کھوج لگائی تو یہ بات سامنے آئی کہ پی ٹی وی ملتان سینٹر میں ہراسمنٹ کیسز میں ملوث افراد کو جن لوگوں نے سپورٹ کیا ہوا ہے وہی عناصر ملتان ٹی ہاؤس کے معاملات میں بھی اثر انداز ہیں یہی وجہ ہے کہ اس ادارے میں مختلف لوگوں کے ساتھ زیادتیاں ہو رہی ہیں یہ مسئلہ صرف میرا کارڈ نہ بننے کا نہیں اصل مسئلہ یہ ہے کہ جہاں ظلم ناانصافی اور زیادتی ہو وہاں میرا قلم خاموش نہیں رہ سکتا متعدد افراد نے یہ شکایت بھی کی کہ اپنے من پسند لوگوں کے لیے ٹیبل ریزرو کی جاتی ہے انہیں خصوصی پروٹوکول دیا جاتا ہے جبکہ ناپسند افراد کے ساتھ جان بوجھ کر بدسلوکی کی جاتی ہے بعض اوقات کسی پروگرام کو ناکام بنانے کے لیے لائٹیں بند کر دی جاتی ہیں یا بجلی بند کر دی جاتی ہے یہ رویے ادیبوں شاعروں اور لکھاریوں کی توہین ہیں اور میرا قلم ایسے رویوں کی حمایت نہیں بلکہ مزاحمت کرتا ہے جب میں نے کہا کہ یہ معاملہ کمشنر ملتان عامر کریم خان کے نوٹس میں لاؤں گی تو موصوف مزید برہم ہو گئے اور کہا کہ یہاں خالد مسعود خان کا حکم چلتا ہے وہ کسی کمشنر وغیرہ کو نہیں جانتے یہ سن کر شدید حیرت ہوئی سنا تو تھا کہ فیاض عوان صاحب کی ریکارڈ پر کوئی ادبی خدمات نھیں مگر یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ اخلاقیات سے بھی اس قدر عاری ہوں گے سوال یہ ہے کہ آخر کس بنیاد پر ایسے شخص کو ملتان ٹی ہاؤس جیسے ادبی اور سرکاری ادارے کا کیئر ٹیکر بنایا گیا جنھوں نے ایک شعر بھی نھیں لکھا کیا خالد مسعود خان ملتان ٹی ہاؤس کے مالک بن چکے ہیں؟ جو خود چند ماہ کے لیے عہدے پر آتے ہیں اور پیچھے ایسے لوگوں کو چھوڑ جاتے ہیں جو کمشنر ملتان کو بھی خاطر میں نہیں لاتے حال ہی میں میں نے ایک چینل پر پروفیسر نسیم شاہد ٹکا انٹرویو دیکھا جس میں انہوں نے ملتان ٹی ہاؤس کے دیگر معاملات کی نشاندہی کی اور مطالبہ کیا کہ جنرل باڈی کا اجلاس بلایا جائے اور نو سال کا مالی آڈٹ کروایا جائے انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ٹی ہاؤس کے قیام کے وقت بھی ممبرشپ کو بلیک میلنگ کے طور پر استعمال کیا گیا تاہم اس وقت کے ڈی سی گوندل صاحب نے انہیں اسکروننگ کمیٹی کا چیئرمین بنایا جس کے بعد تمام اہل درخواست گزاروں کو رکنیت دے دی گئی افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ آج ایک بار پھر چند لوگ ملتان ٹی ہاؤس جیسے سرکاری ادارے پر قابض ہیں اور خواتین لکھاریوں کو بھی رکنیت دینے سے روکا جا رہا ہے یہ واضح ہونا چاہیے کہ پی ٹی وی ملتان ہو یا ملتان ٹی ہاؤس یہ کسی کی جاگیر نہیں بلکہ عوامی اور ریاستی ادارے ہیں میں اس معاملے کو اعلیٰ سطح تک لے کر جاؤں گی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز جو خواتین کی نمائندگی اور تحفظ کو اپنی ترجیح قرار دے چکی ہیں ان تک بھی یہ آواز پہنچائی جائے گی نہ جانے کتنی اہل قلم خواتین اس مافیا کے ہاتھوں ملتان ٹی ہاؤس کی رکنیت سے محروم رکھی گئی ہیں ملتان ٹی ہاؤس میں ایک منتخب باڈی کا قیام ناگزیر ہے تاکہ یہ ادارہ واقعی ادیبوں شاعروں اور لکھاریوں کی آماجگاہ بن سکے نہ کہ چند افراد کی ذاتی سلطنت کمشنر ملتان عامر کریم خان کو اس صورتحال کاسنجیدہ نوٹس لینا چاہیے







































Visit Today : 408
Visit Yesterday : 560
This Month : 8698
This Year : 56534
Total Visit : 161522
Hits Today : 12422
Total Hits : 758866
Who's Online : 4






















