نیشنل پریس ٹرسٹ کا پلاٹ یرغمال، قبضہ مافیا بے خوف،انتظامیہ ناکام

ملتان۔۔ زین خان

0300 7311450

نیشنل پریس ٹرسٹ اسلام آباد کا چوک ڈیرہ اڈا ملتان کے قریب عظمت واسطی روڈ پر واقع 101 مرلہ قیمتی سرکاری پلاٹ قبضہ مافیا کے مکمل تصرف میں ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور بااثر سیاسی سرپرست تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ کروڑوں روپے مالیت کی اس زمین پر جھونپڑیوں کی غیرقانونی بستی قائم ہے، جہاں نہ رہائشیوں کا کوئی سرکاری ریکارڈ ہے اور نہ ہی پولیس گرفت مضبوط دکھائی دیتی ہے۔مصدقہ ذرائع کے مطابق منشیات کی سپلائی اور چوریوں میں ملوث عناصر اسی بستی سے جڑے ہیں، پولیس کے پاس ان لوگوں کا نہ مکمل ڈیٹا ہے اور نہ مؤثر کارروائی۔ صحافیوں کا کہنا ہے کہ اگر یہی زمین واگزار کرا کے پلازہ تعمیر کیا جائے تو حکومت کو بھاری مالی منفعت حاصل ہو سکتی ہے، اخبارات کے دفاتر بن سکتے ہیں، مگر مقامی انتظامیہ اور چند ایک سیاسی وڈیرے دانستہ رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق جون 2018 میں ایک شہری نے تھانہ بوہڑ گیٹ میں درخواست دے کر انکشاف کیا کہ نیشنل پریس ٹرسٹ کی 5 کنال 1 مرلہ زمین کی جعلی فردِ بیع 15 فروری 2018 کو محمد طارق نے جاری کروائی۔ اس مقصد کے لیے پروگریسو پیپرز لمیٹڈ کا جعلی لیٹر پیڈ اور اسٹامپ پیپر استعمال کیا گیا، حالانکہ یہ ادارہ 1991 میں وفاقی کابینہ کی منظوری سے نیشنل پریس ٹرسٹ میں ضم ہوچکا تھا، اب نہ اس کا کوئی دفتر ہے نہ ڈائریکٹرز۔ایک دکاندار کے بیان کے مطابق محمد طارق اور اس کے ساتھیوں نے یکم جون 2018 کو پلاٹ پر قبضے کی نیت سے سیمنٹ کے پچاس کے قریب پلرز بھی نصب کیے، جس پر پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا، اب مقدمہ کا کیا بنا علم نہیں۔پولیس کاروائی کے سات سال گزرنے کے باوجود نہ جعلی دستاویزات بنانے والا مافیا بے نقاب ہو سکا، نہ زمین واگزار کرائی جا سکی، ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تاخیر نہیں، ملی بھگت کا شاخسانہ ہے۔ صحافیوں اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نیشنل پریس ٹرسٹ کے پلاٹ کو فوری واگزار کروا کر وہاں میڈیا پلازہ تعمیر کیا جائے، خانہ بدوشوں کو نگہبان مراکز منتقل کیا جائے اور جعلسازی میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
ملتان کے سینئر صحافیوں نے وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور وفاقی وزیر اطلاعات کی توجہ نیشنل پریس ٹرسٹ (این پی ٹی) کے مالی معاملات کی جانب مبذول کراتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور ملتان میں واقع اربوں روپے مالیت کی این پی ٹی املاک سے حاصل ہونے والی بھاری آمدن آخر کہاں خرچ ہو رہی ہے؟ ٹرسٹ کے پنشنرز بھی موجود ہیں، مگر مالی شفافیت ناپید ہے۔
صحافیوں کے مطابق ملتان میں این پی ٹی کی قیمتی سرکاری زمین پر قبضہ مافیا سرگرم ہے، جو جعلی دستاویزات کے ذریعے اس املاک کو ہتھیانے کی کوشش کر رہا ہے۔ الزام ہے کہ ملی بھگت کے تحت کروڑوں روپے کے پلاٹ پر جعلی کاغذات تیار کیے گئے، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
صحافیوں، دانشور طبقہ اور یہاں کے دکانداروں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ قبضہ مافیا کے خلاف جاری مہم کے تحت کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ملتان کو فوری احکامات جاری کر کے نیشنل پریس ٹرسٹ کی 101 مرلہ زمین واگزار کرائی جائے۔شہر کا ماحول منشیات سے پاک کرنے کے لئے جھونپڑی بستی ختم کرائی جائے، اور یہ زمین اخبار مالکان کو دفاتر کے لئے فراہم کی جائے۔