جب ایف آئی آر جرم سے زیادہ مشکل بن جائے

تحریر: کلب عابد خان
0300-9635323
کسی بھی مہذب ریاست میں انصاف کا آغاز تھانے سے ہوتا ہے۔ ایف آئی آر وہ پہلا قانونی دستاویز ہے جو کسی جرم کو ریاستی ریکارڈ کا حصہ بناتی ہے اور اسی بنیاد پر تفتیش، گرفتاری اور عدالتی کارروائی آگے بڑھتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں، بالخصوص ملتان جیسے بڑے شہر میں، صورتحال یہ ہے کہ جرم سہنا تو نسبتاً آسان ہو گیا ہے مگر اس جرم کی ایف آئی آر درج کروانا سب سے کٹھن مرحلہ بن چکا ہے۔
قانون بالکل واضح ہے۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 154 پولیس کو پابند کرتی ہے کہ کسی بھی قابلِ دست اندازی جرم کی اطلاع پر فوری طور پر مقدمہ درج کیا جائے۔ اس میں نہ پولیس کی مرضی شامل ہے، نہ افسر کی صوابدید۔ مگر عملی طور پر ایف آئی آر کا اندراج ایک قانونی فریضہ کم اور اختیارِ مطلق زیادہ بن چکا ہے۔ تھانوں میں سائل کی بات سننے کے بجائے اسے پہلے مجرم کی طرح پرکھا جاتا ہے، اس کے بیان پر شک کیا جاتا ہے اور مختلف حیلوں بہانوں سے اسے ٹال دیا جاتا ہے۔
کبھی کہا جاتا ہے کہ واقعہ قابلِ دست اندازی نہیں، کبھی دائرہ اختیار کا مسئلہ کھڑا کر دیا جاتا ہے، کبھی کینٹ اور سول ایریا کی حد بندی شہری کے لیے ایک نہ ختم ہونے والا چکر بن جاتی ہے، اور کبھی ’’اوپر سے اجازت‘‘ کا بہانہ بنا کر سائل کو دنوں اور ہفتوں تھانے کے چکر لگوائے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مظلوم تھک ہار کر یا تو صلح پر مجبور ہو جاتا ہے یا پھر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہوتا ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ تھانوں میں مقدمات بروقت درج نہ ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایف آئی آر کا اختیار نچلی سطح کے افسران کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے، جہاں قانون سے زیادہ ذاتی رائے، دباؤ، سفارش اور بعض اوقات مفادات فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عام شہری کے لیے تھانہ انصاف کی جگہ خوف اور بے بسی کی علامت بن چکا ہے۔
جب پولیس مقدمہ درج کرنے سے انکار کرتی ہے تو شہری کے پاس واحد راستہ عدالت سے رجوع کرنا رہ جاتا ہے۔ سیشن کورٹ، مجسٹریٹ یا ہائی کورٹ کے دروازے کھٹکھٹائے جاتے ہیں، درخواستیں دی جاتی ہیں، تاریخیں ملتی ہیں اور مہینوں بعد کہیں جا کر پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کا حکم ملتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہر شہری عدالت جانے کی سکت رکھتا ہے؟ کیا غریب، مزدور یا دیہاڑی دار انصاف کے لیے یہ طویل اور مہنگا سفر طے کر سکتا ہے؟
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عدالتوں کی جانب سے بار بار نوٹس لینے کے باوجود تھانوں کے رویے میں کوئی بنیادی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ نہ کسی ایس ایچ او سے ایف آئی آر درج نہ کرنے پر مؤثر جواب دہی ہوتی ہے، نہ ہی انکار کی وجوہات کا سنجیدہ جائزہ لیا جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ سب ایک معمول بن چکا ہو، جس پر نہ کوئی شرمندگی ہے اور نہ اصلاح کی خواہش۔
ایف آئی آر کے بعد دوسرا بڑا مسئلہ ناقص تفتیش ہے۔ اگر کسی خوش قسمتی سے مقدمہ درج بھی ہو جائے تو تفتیش کا معیار اکثر مایوس کن ہوتا ہے۔ شواہد اکٹھے کرنے میں غفلت، موقع واردات کا درست معائنہ نہ کرنا، گواہوں کے بیانات میں تاخیر، اور ملزم و مدعی کے درمیان غیر جانبداری کا فقدان ایسے عوامل ہیں جو مقدمے کو کمزور کر دیتے ہیں۔ نتیجتاً یا تو بے گناہ افراد مشکلات کا شکار ہوتے ہیں یا اصل مجرم قانونی سقم کا فائدہ اٹھا کر بری ہو جاتے ہیں۔
ناقص تفتیش کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انصاف مجروح ہوتا ہے اور عوام کا اعتماد مزید کمزور پڑ جاتا ہے۔ جب شہری یہ دیکھتا ہے کہ ایف آئی آر کے بعد بھی اسے انصاف نہیں مل رہا تو وہ قانون سے مایوس ہو جاتا ہے۔ یہی مایوسی آگے چل کر عدم تعاون، قانون شکنی اور بعض اوقات خودساختہ انصاف جیسے خطرناک رجحانات کو جنم دیتی ہے۔
ملتان پولیس کے اعلیٰ افسران اصلاحات، جدید پولیسنگ اور شہری دوست نظام کے دعوے ضرور کرتے ہیں، مگر زمینی حقائق ان دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ سوشل میڈیا مہمات، اجلاسوں اور بیانات سے نظام بہتر نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے تھانے کی سطح پر رویے اور عمل میں تبدیلی ضروری ہے۔ ایف آئی آر کا اندراج آسان اور خودکار بنانا، تفتیش کے معیار کو بہتر کرنا اور افسران کو حقیقی معنوں میں جواب دہ بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ:
ایف آئی آر کے اندراج کو کسی افسر کی صوابدید کے بجائے مکمل طور پر قانونی عمل بنایا جائے
انکار کی صورت میں تحریری وجہ اور اعلیٰ سطح پر فوری اپیل کا نظام ہو
ناقص تفتیش پر متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی کی جائے
شہری کو بار بار عدالتوں کے چکر لگانے سے بچایا جائے
ریاست کی طاقت بندوق میں نہیں بلکہ انصاف میں ہوتی ہے۔ اگر انصاف کی پہلی سیڑھی ہی اتنی مشکل بنا دی جائے کہ شہری اس تک پہنچ ہی نہ سکے تو پھر قانون کی بالادستی محض ایک نعرہ رہ جاتی ہے۔ ملتان پولیس اور مجموعی طور پر ہمارے نظامِ انصاف کو یہ سوچنا ہوگا کہ آیا وہ شہری کو سہولت دینا چاہتے ہیں یا اسے مزید مشکلات میں دھکیلنا۔
جب ایف آئی آر جرم سے زیادہ مشکل بن جائے تو سمجھ لیں کہ مسئلہ جرم کا نہیں، نظام کا ہے۔ اور جب تک اس نظام کی اصلاح نہیں ہوتی، انصاف ایک خواب ہی رہے گا۔